صحیح مسلم حدیث ۶۷۷۲ - رزق، قدم اور عمر مقرر ہیں
رزق، عمر اور قدم: تقدیر پر ایمان کی حدیث
صحیح مسلم : ۶۷۷۲
صحیح مسلمحدیث نمبر ۶۷۷۲
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْحَنْظَلِيُّ ، وَحَجَّاجُ بْنُ الشَّاعِرِ ، وَاللَّفْظُ لِحَجَّاجٍ ، قَالَ إِسْحَاقُ : أَخْبَرَنَا ، وقَالَ حَجَّاجٌ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا الثَّوْرِيُّ ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ مَرْثَدٍ ، عَنْ الْمُغِيرَةِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْيَشْكُرِيِّ ، عَنْ مَعْرُورِ بْنِ سُوَيْدٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ ، قَالَ : قَالَتْ أُمُّ حَبِيبَةَ : " اللَّهُمَّ مَتِّعْنِي بِزَوْجِي رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَبِأَبِي أَبِي سُفْيَانَ ، وَبِأَخِي مُعَاوِيَةَ ، فَقَالَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِنَّكِ سَأَلْتِ اللَّهَ لِآجَالٍ مَضْرُوبَةٍ ، وَآثَارٍ مَوْطُوءَةٍ ، وَأَرْزَاقٍ مَقْسُومَةٍ لَا يُعَجِّلُ شَيْئًا مِنْهَا قَبْلَ حِلِّهِ ، وَلَا يُؤَخِّرُ مِنْهَا شَيْئًا بَعْدَ حِلِّهِ ، وَلَوْ سَأَلْتِ اللَّهَ أَنْ يُعَافِيَكِ مِنْ عَذَابٍ فِي النَّارِ وَعَذَابٍ فِي الْقَبْرِ ، لَكَانَ خَيْرًا لَكِ " ، قَالَ : فَقَالَ رَجُلٌ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، الْقِرَدَةُ وَالْخَنَازِيرُ هِيَ مِمَّا مُسِخَ ؟ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ لَمْ يُهْلِكْ قَوْمًا أَوْ يُعَذِّبْ قَوْمًا ، فَيَجْعَلَ لَهُمْ نَسْلًا ، وَإِنَّ الْقِرَدَةَ وَالْخَنَازِيرَ كَانُوا قَبْلَ ذَلِكَ .
ابن مسعود روایت:
ام المؤمنین سیدہ ام حبیبہ نے کہا: یا اللہ! تو مجھ کو فائدہ اٹھانے دے میرے خاوند رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اور میرے باپ ابوسفیان سے اور میرے بھائی معاویہ سے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: ”تو نے اللہ سے سے ان باتوں کے لیے کہا جن کی میعادیں مقرر ہیں اور قدم تک جو چلیں لکھے ہوئے ہیں اور روزیاں بٹی ہوئی ہیں ان میں سے کسی چیز کو اللہ اس کے وقت سے پہلے یا وقت کے بعد دیر سے کرنے والا نہیں۔ اگر تو اللہ سے یہ مانگتی کہ تجھ کو بچائے جہنم کے عذاب سے یا قبر کے عذاب سے تو بہتر ہوتا۔“ایک شخص بولا: یا رسول اللہ! جو مسخ ہوئے تھے بندر اور سور ان لوگوں میں سے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ نے جس قوم کو ہلاک کیا یا عذاب دیا ان کی نسل نہیں چلائی اور بندر اور سور تو ان لوگوں سے پہلے موجود تھے۔“
صحیح مسلم حدیث ۶۷۷۲ کا خلاصہ
اس حدیث میں ام حبیبہ رضی اللہ عنہا کی دعا کے جواب میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم نے ایسی چیزوں کے بارے میں سوال کیا ہے جن کی میعادیں مقرر ہیں، قدم لکھے ہوئے ہیں اور روزیاں تقسیم ہو چکی ہیں۔ کوئی چیز اپنے وقت سے پہلے نہیں آتی اور نہ وقت کے بعد رہ جاتی ہے۔ پھر آپ نے بتایا کہ اگر وہ جہنم اور قبر کے عذاب سے عافیت مانگتیں تو بہتر تھا۔ اسی روایت میں بندروں اور سوروں کے بارے میں پوچھا گیا تو فرمایا کہ جس قوم کو اللہ ہلاک یا عذاب دے، اس کی نسل نہیں چلاتا، اور بندر و سور پہلے سے موجود تھے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- عمر، قدم اور رزق اللہ کے علم و تقدیر میں مقرر ہیں۔
- دعا میں آخرت کی عافیت کو مقدم رکھنا چاہیے۔
- مسخ شدہ قوموں کی نسل کے بارے میں حدیث میں واضح جواب آیا ہے۔
- اللہ کے مقرر وقت سے کوئی چیز پہلے یا بعد نہیں ہوتی۔
