صحیح مسلم حدیث ۶۷۷۴ - قوی مومن اور قدر اللہ وما شاء فعل

قوی مومن کی حدیث: فائدہ مند کام کرو، اللہ سے مدد مانگو

صحیح مسلمحدیث نمبر ۶۷۷۴

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَابْنُ نُمَيْرٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِدْرِيسَ ، عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ عُثْمَانَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَي بْنِ حَبَّانَ ، عَنْ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " الْمُؤْمِنُ الْقَوِيُّ خَيْرٌ وَأَحَبُّ إِلَى اللَّهِ مِنَ الْمُؤْمِنِ الضَّعِيفِ ، وَفِي كُلٍّ خَيْرٌ احْرِصْ عَلَى مَا يَنْفَعُكَ ، وَاسْتَعِنْ بِاللَّهِ وَلَا تَعْجَزْ ، وَإِنْ أَصَابَكَ شَيْءٌ فَلَا تَقُلْ : لَوْ أَنِّي فَعَلْتُ كَانَ كَذَا وَكَذَا ، وَلَكِنْ قُلْ : قَدَرُ اللَّهِ وَمَا شَاءَ فَعَلَ ، فَإِنَّ لَوْ تَفْتَحُ عَمَلَ الشَّيْطَانِ " .

ابوہریرہ روایت:

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”زبردست مسلمان (زبردست سے مراد وہ ہے جس کا ایمان قوی ہو، اللہ تعالیٰ پر بھروسا رکھتا ہو، آخرت کے کاموں میں ہمت والا ہو) اللہ کے نزدیک بہتر اور اللہ تعالیٰ کو زیادہ پسند ہے ناتواں مسلمان سے اور ہر ایک طرح کا مسلمان بہتر ہے، حرص کر ان کاموں کی جو تجھ کو مفید ہیں (یعنی آخرت میں کام دیں گے) اور مدد مانگ اللہ سے اور ہمت مت ہار اور تجھ پر کوئی مصیبت آئے تو یوں مت کہہ اگر میں ایسا کرتا تو یہ مصیبت کیوں آتی لیکن یوں کہہ اللہ تعالیٰ کی تقدیر میں ایسا ہی تھا جو اس نے چاہا کیا۔ اگر مگر کرنا شیطان کے لیے راہ کھولنا ہے۔“یعنی جو اس اعتقاد سے کہے کہ اسباب کی تاثیر مستقل ہے اور اگر یہ سبب نہ ہوتا تو مصیبت نہ آتی تو وہ اسلام سے نکل گیا اس لیے کہ ہر ایک کام اللہ کی مشیت کے بغیر نہیں ہوتا اور جو اللہ تعالیٰ کی مشیت پر اعتقاد رکھتا ہے اور جانتا ہے کہ اسباب کی تاثیر بھی اس کے حکم سے ہے اس کو اگر مگر کہنا جائز نہیں اور اس کی مثال یہ ہے کہ مومن کہتا ہے بارش اچھی ہوئی اب کے غلہ بہت ہو گا اور کافر بھی کہتا ہے پر مومن کا کہنا اور اعتقاد سے ہے اور کافر کا کہنا اور اعتقاد سے اور جو اعتقاد کافر کا ہے اس اعتقاد سے یہ کلمہ کہنا درست نہیں اور مومن کے اعتقاد سے درست ہے۔

صحیح مسلم حدیث ۶۷۷۴ کا خلاصہ

یہ بہت مشہور حدیث ہے جسے لوگ قوی مومن کی حدیث، المؤمن القوي، اور قدر اللہ وما شاء فعل کے نام سے تلاش کرتے ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ قوی مومن اللہ کے نزدیک کمزور مومن سے بہتر اور زیادہ محبوب ہے، اور دونوں میں خیر ہے۔ پھر عملی ہدایت دی کہ جو چیز تمہیں فائدہ دے اس کی حرص کرو، اللہ سے مدد مانگو، اور ہمت نہ ہارو۔ اگر کوئی مصیبت آئے تو یہ نہ کہو کہ اگر میں ایسا کرتا تو ایسا ہوتا، بلکہ کہو: اللہ کی تقدیر تھی، جو اس نے چاہا کیا۔ حدیث انسان کو عمل، دعا، حوصلہ اور تقدیر پر ایمان کا متوازن سبق دیتی ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • مومن کو فائدہ مند کاموں کی کوشش کرنی چاہیے۔
  • کوشش کے ساتھ اللہ سے مدد مانگنا ضروری ہے۔
  • مصیبت کے بعد بے فائدہ اگر مگر شیطان کا راستہ کھول سکتا ہے۔
  • قوی اور کمزور دونوں مومنوں میں خیر ہے، مگر قوت والا مومن زیادہ پسندیدہ ہے۔

اس سے متعلق احادیث

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں