صحیح مسلم حدیث ۶۸۲۲ - اللہ سے ملاقات کا صحیح مطلب
اللہ سے ملاقات کی حدیث: موت سے ڈر اور ایمان کی امید
صحیح مسلم : ۶۸۲۲
صحیح مسلمحدیث نمبر ۶۸۲۲
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الرُّزِّيُّ ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ الْهُجَيْمِيُّ ، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ زُرَارَةَ ، عَنْ سَعْدِ بْنِ هِشَامٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ أَحَبَّ لِقَاءَ اللَّهِ أَحَبَّ اللَّهُ لِقَاءَهُ ، وَمَنْ كَرِهَ لِقَاءَ اللَّهِ كَرِهَ اللَّهُ لِقَاءَهُ " ، فَقُلْتُ : يَا نَبِيَّ اللَّهِ ، أَكَرَاهِيَةُ الْمَوْتِ فَكُلُّنَا نَكْرَهُ الْمَوْتَ ، فَقَالَ : " لَيْسَ كَذَلِكِ ، وَلَكِنَّ الْمُؤْمِنَ إِذَا بُشِّرَ بِرَحْمَةِ اللَّهِ وَرِضْوَانِهِ وَجَنَّتِهِ أَحَبَّ لِقَاءَ اللَّهِ ، فَأَحَبَّ اللَّهُ لِقَاءَهُ ، وَإِنَّ الْكَافِرَ إِذَا بُشِّرَ بِعَذَابِ اللَّهِ وَسَخَطِهِ كَرِهَ لِقَاءَ اللَّهِ وَكَرِهَ اللَّهُ لِقَاءَهُ " ،
عائشہ روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص اللہ تعالیٰ سے ملنا چاہتا ہے اللہ تعالیٰ بھی اس سے ملنا چاہتا ہے اور جو اللہ سے ملنا نہیں چاہتا اللہ بھی اس سے ملنا نہیں چاہتا، میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! موت کو تو ہم میں سے سب ناپسند کرتے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میرا یہ مطلب نہیں بلکہ مومن جب (اس کا آخر وقت آ جاتا ہے) خوشخبری دیا جاتا ہے اللہ کی رحمت اور رضا مندی کی اور جنت تو وہ اللہ سے ملنا چاہتا ہے (اور بیماری اور دنیا کے مکر وہات سے جلد خلاصی پانا) اللہ بھی اس سے ملنا چاہتا ہے اور کافر جب (آخر وقت آتا ہے) اس کو خبر دی جاتی ہے اللہ کے عذاب اور غصہ کی تو وہ اللہ تعالیٰ سے ملنا پسند نہیں کرتا اللہ عزوجل بھی اس سے ملنا پسند نہیں کرتا۔“
صحیح مسلم حدیث ۶۸۲۲ کا خلاصہ
یہ حدیث اللہ سے ملاقات کی حدیث کے بارے میں بہت صاف بات سمجھاتی ہے۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے پوچھا کہ کیا اس سے مراد موت کو ناپسند کرنا ہے، کیونکہ موت کو تو ہم سب ناپسند کرتے ہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بتایا کہ بات یہ نہیں ہے۔ اصل بات اس وقت کی ہے جب مومن کو اللہ کی رحمت، رضامندی اور جنت کی خوشخبری دی جاتی ہے۔ اس وقت اس کا دل اللہ سے ملاقات کی طرف مائل ہوتا ہے۔ اس کے مقابلے میں کافر کو عذاب اور ناراضی کی خبر دی جاتی ہے تو وہ اللہ سے ملاقات کو ناپسند کرتا ہے۔ اس حدیث میں موت کی فطری گھبراہٹ کو مذمت نہیں کہا گیا، بلکہ آخری وقت میں آنے والی خبر اور بندے کے اندرونی حال کو بیان کیا گیا ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- موت کو طبعی طور پر ناپسند کرنا اس حدیث کا مقصود نہیں۔
- مومن کے لیے آخر وقت میں رحمت، رضا اور جنت کی خوشخبری کا ذکر آیا ہے۔
- کافر کے لیے عذاب اور ناراضی کی خبر کے بعد ملاقات کو ناپسند کرنے کا ذکر ہے۔
- حدیث کا پیغام آخرت کے انجام سے جڑا ہوا ہے۔
