صحیح مسلم حدیث ۶۸۲۸ - اللہ سے ملاقات پسند کرنے والا

اللہ سے ملاقات پسند کرنے والے کے لیے حدیث

صحیح مسلمحدیث نمبر ۶۸۲۸

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَأَبُو عَامِرٍ الْأَشْعَرِيُّ ، وَأَبُو كُرَيْبٍ ، قَالُوا : حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، عَنْ بُرَيْدٍ ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ ، عَنْ أَبِي مُوسَى ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " مَنْ أَحَبَّ لِقَاءَ اللَّهِ أَحَبَّ اللَّهُ لِقَاءَهُ ، وَمَنْ كَرِهَ لِقَاءَ اللَّهِ كَرِهَ اللَّهُ لِقَاءَهُ " .

ابوموسیٰ روایت:

سیدنا ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے بھی ایسی ہی روایت ہے۔

صحیح مسلم حدیث ۶۸۲۸ کا خلاصہ

اس حدیث میں سیدنا ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا واضح فرمان آیا ہے: جو اللہ سے ملاقات کو پسند کرتا ہے، اللہ بھی اس کی ملاقات کو پسند فرماتا ہے، اور جو اللہ سے ملاقات کو ناپسند کرتا ہے، اللہ بھی اس کی ملاقات کو ناپسند فرماتا ہے۔ یہ الفاظ مختصر ہیں، مگر ان کا مضمون بہت گہرا ایمانی احساس رکھتا ہے۔ ساتھ والی روایات کی وضاحت کے مطابق اسے موت کے عام ڈر کے معنی میں نہیں لینا چاہیے۔ اصل بات آخری انجام اور بندے کے ایمان سے جڑی ہے۔ جب مومن کو رحمت اور جنت کی خوشخبری ملتی ہے تو اللہ سے ملنے کی چاہ پیدا ہوتی ہے۔ اس لیے اس حدیث کو اللہ سے ملاقات کی حدیث، مومن کی امید اور آخرت کی تیاری جیسے الفاظ کے ساتھ سمجھا جا سکتا ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • حدیث میں اللہ سے ملاقات کو پسند کرنے اور ناپسند کرنے کا اصول آیا ہے۔
  • اس مضمون کو موت کے عام ڈر تک محدود نہیں کرنا چاہیے۔
  • مومن کا تعلق اللہ کی رحمت اور آخرت کی امید سے مضبوط رہتا ہے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں