صحیح مسلم حدیث ۶۸۲۹ - اللہ سے اچھا گمان اور دعا
حسن ظن باللہ کی حدیث: دعا میں اللہ پر امید رکھیں
صحیح مسلم : ۶۸۲۹
صحیح مسلمحدیث نمبر ۶۸۲۹
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ بُرْقَانَ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ الْأَصَمِّ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِنَّ اللَّهَ يَقُولُ : " أَنَا عِنْدَ ظَنِّ عَبْدِي بِي وَأَنَا مَعَهُ إِذَا دَعَانِي " .
ابوہریرہ روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: میں اپنے بندے کے گمان کے پاس ہوں اور میں اس کے ساتھ ہوں (علم، سمع، مدد، توفیق اور اجابت سے) جب وہ مجھے بلائے۔“
صحیح مسلم حدیث ۶۸۲۹ کا خلاصہ
یہ حدیث حسن ظن باللہ کی حدیث کے طور پر بہت مشہور ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: میں اپنے بندے کے گمان کے پاس ہوں، اور جب وہ مجھے بلاتا ہے تو میں اس کے ساتھ ہوتا ہوں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ بندہ اللہ کے بارے میں بدگمانی کے بجائے امید، عاجزی اور اعتماد کے ساتھ دعا کرے۔ حدیث میں دعا کا ذکر صاف الفاظ میں آیا ہے: جب بندہ اللہ کو بلاتا ہے، اللہ اس کے ساتھ ہوتا ہے۔ یہاں کسی خاص دنیاوی نتیجے کی تفصیل بیان نہیں ہوئی، اس لیے ہمیں بات کو اسی حد میں رکھنا چاہیے۔ اس سے یہ سبق ملتا ہے کہ دعا صرف الفاظ نہیں، دل کا تعلق بھی ہے۔ بندہ اللہ سے مانگتے وقت یہ یقین رکھے کہ میرا رب مجھے سننے والا اور مجھ پر مہربان ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- اللہ کے بارے میں اچھا گمان رکھنا ایمان کے اچھے حال سے جڑا ہے۔
- دعا کے وقت بندہ اللہ کو پکارے تو حدیث میں اللہ کے ساتھ ہونے کا ذکر ہے۔
- حدیث میں کسی خاص دنیاوی نتیجے کی ضمانت نہیں، بلکہ بندے کے گمان اور دعا کا ذکر ہے۔
- دعا میں امید، عاجزی اور اللہ پر بھروسا مناسب ہے۔
