صحیح مسلم حدیث ۶۸۳۱ - اللہ کا قرب اور روایت کا فرق
قرب الٰہی کی حدیث: روایت کے الفاظ کا فرق سمجھیں
صحیح مسلم : ۶۸۳۱
صحیح مسلمحدیث نمبر ۶۸۳۱
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى الْقَيْسِيُّ ، حَدَّثَنَا مُعْتَمِرٌ ، عَنْ أَبِيهِ ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ وَلَمْ يَذْكُرْ إِذَا أَتَانِي يَمْشِي أَتَيْتُهُ هَرْوَلَةً .
اس سند سے بھی یہ حدیث اسی طرح مروی ہے لیکن اس روایت میں ”جب وہ میری طرف چل کر آتا ہے تو میں اس کے پاس دوڑ کر آتا ہوں“ مذکور نہیں۔
صحیح مسلم حدیث ۶۸۳۱ کا خلاصہ
یہ روایت اسی مضمون کو بیان کرتی ہے جو اللہ کے قریب ہونے کی حدیث میں آیا ہے، لیکن اس میں ایک لفظی فرق بھی صاف بیان کیا گیا ہے۔ یہاں بتایا گیا کہ اس سند میں وہ الفاظ نہیں آئے کہ جب بندہ میری طرف چل کر آتا ہے تو میں اس کی طرف دوڑ کر آتا ہوں۔ یہ بات حدیث پڑھنے والے کے لیے بہت مفید ہے، کیونکہ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ راویوں نے الفاظ کی حفاظت کے ساتھ روایت کی اور جہاں کوئی جملہ موجود نہ تھا، اسے الگ سے بتا دیا۔ اصل مضمون پھر بھی قرب الٰہی ہے: بندہ اللہ کی طرف بڑھے تو اللہ کی طرف سے قرب کا معاملہ بیان ہوتا ہے۔ اس حدیث سے ہمیں الفاظ کے فرق کا احترام کرنا بھی سیکھنا چاہیے، اور معنی کو روایت کے دائرے میں رکھنا چاہیے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- روایت کے الفاظ کا فرق امانت کے ساتھ بیان کیا گیا ہے۔
- اس روایت کا اصل موضوع بندے کا اللہ کے قریب ہونا ہے۔
- حدیث سمجھتے وقت موجود الفاظ ہی پر اعتماد کیا جائے۔
- قرب الٰہی کا مضمون بندے کو اللہ کی طرف رجوع کی ترغیب دیتا ہے۔
