صحیح مسلم حدیث ۶۸۳۵ - دنیا و آخرت کی بھلائی کی دعا

دنیا و آخرت کی بھلائی کی دعا: ربنا آتنا کی حدیث

صحیح مسلمحدیث نمبر ۶۸۳۵

حَدَّثَنَا أَبُو الْخَطَّابِ زِيَادُ بْنُ يَحْيَى الْحَسَّانِيُّ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، عَنْ حُمَيْدٍ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَادَ رَجُلًا مِنَ الْمُسْلِمِينَ قَدْ خَفَتَ فَصَارَ مِثْلَ الْفَرْخِ ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " هَلْ كُنْتَ تَدْعُو بِشَيْءٍ أَوْ تَسْأَلُهُ إِيَّاهُ ؟ " قَالَ : نَعَمْ ، كُنْتُ أَقُولُ اللَّهُمَّ مَا كُنْتَ مُعَاقِبِي بِهِ فِي الْآخِرَةِ فَعَجِّلْهُ لِي فِي الدُّنْيَا ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " سُبْحَانَ اللَّهِ لَا تُطِيقُهُ أَوْ لَا تَسْتَطِيعُهُ ، أَفَلَا قُلْتَ : اللَّهُمَّ آتِنَا فِي الدُّنْيَا حَسَنَةً وَفِي الْآخِرَةِ حَسَنَةً ، وَقِنَا عَذَابَ النَّارِ " ، قَالَ : فَدَعَا اللَّهَ لَهُ فَشَفَاهُ .

انس روایت:

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مسلمان کی عیادت کی جو بیماری سے چوزے کی طرح ہو گیا (یعنی بہت ضعیف اور ناتواں ہو گیا تھا) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا: ”تو کچھ دعا کیا کرتا تھا یا اللہ تعالیٰ سے کچھ سوال کیا کرتا تھا؟“ وہ بولا: ہاں میں یہ کہا کرتا تھا: یا اللہ! جو کچھ تو مجھ کو آخرت میں عذاب کرنے والا ہے وہ دنیا ہی میں کر لے۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سبحان اللہ! تجھے اتنی طاقت کہاں ہے کہ اللہ کا عذاب اٹھا سکے (دنیا میں) تو نے یہ کیوں نہیں کہا: «اللَّهُمَّ آتِنَا فِي الدُّنْيَا حَسَنَةً وَفِي الآخِرَةِ حَسَنَةً، وَقِنَا عَذَابَ النَّارِ» یا اللہ! مجھ کو دنیا میں بھی بھلائی دے اور آخرت میں بھی بھلائی دے اور مجھ کو بچا لے جہنم کے عذاب سے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے لیے دعا کی اللہ عزوجل سے اللہ تعالیٰ نے اس کو اچھا کر دیا۔“

صحیح مسلم حدیث ۶۸۳۵ کا خلاصہ

یہ حدیث دعا کے آداب کو بہت آسان انداز میں سمجھاتی ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک بیمار مسلمان کی عیادت کے لیے تشریف لے گئے جو بہت کمزور ہو چکا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کہ کیا تم کوئی دعا کیا کرتے تھے؟ اس نے بتایا کہ وہ کہتا تھا: یا اللہ! جو عذاب آخرت میں دینا ہے، وہ دنیا ہی میں دے دے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم میں اللہ کا عذاب اٹھانے کی طاقت نہیں۔ پھر آپ نے اسے یہ جامع دعا سکھائی: اللهم آتنا في الدنيا حسنة وفي الآخرة حسنة وقنا عذاب النار۔ یعنی دنیا میں بھلائی، آخرت میں بھلائی، اور آگ کے عذاب سے بچاؤ۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے لیے دعا کی اور اللہ نے اسے شفا دی۔ اس حدیث کا پیغام ہے کہ دعا میں خیر مانگنی چاہیے، خود پر سخت عذاب نہیں۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • اپنے لیے عذاب جلدی مانگنا مناسب نہیں، جیسا کہ حدیث میں تنبیہ آئی ہے۔
  • دنیا اور آخرت دونوں کی بھلائی مانگنا سکھایا گیا ہے۔
  • آگ کے عذاب سے پناہ مانگنا اس دعا کا حصہ ہے۔
  • مریض کی عیادت اور اس کے لیے دعا کرنا اس روایت میں آیا ہے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں