صحیح مسلم حدیث ۶۸۳۷ - عذاب نہ مانگنے کی تعلیم
عذاب نہ مانگنے کی حدیث: ربنا آتنا والی دعا سیکھیں
صحیح مسلم : ۶۸۳۷
صحیح مسلمحدیث نمبر ۶۸۳۷
وحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، أَخْبَرَنَا ثَابِتٌ ، عَنْ أَنَسٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ عَلَى رَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِهِ يَعُودُهُ وَقَدْ صَارَ كَالْفَرْخِ ، بِمَعْنَى حَدِيثِ حُمَيْدٍ غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ : لَا طَاقَةَ لَكَ بِعَذَابِ اللَّهِ ، وَلَمْ يَذْكُرْ فَدَعَا اللَّهَ لَهُ فَشَفَاهُ ،
سیدنا انس رضی اللہ عنہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی طرح حدیث مبارکہ روایت کی ہے اس میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا اس مریض کے لیے دعا کرنے کا ذکر نہیں ہے۔
صحیح مسلم حدیث ۶۸۳۷ کا خلاصہ
یہ روایت اسی واقعے کو بیان کرتی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک بیمار صحابی کی عیادت کے لیے گئے، جو بہت کمزور ہو چکے تھے۔ مضمون کے مطابق انہوں نے اپنے لیے یہ دعا کی تھی کہ آخرت کا عذاب دنیا ہی میں دے دیا جائے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تمہیں اللہ کے عذاب کی طاقت نہیں۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بہتر دعا کی طرف رہنمائی فرمائی: دنیا میں بھلائی، آخرت میں بھلائی، اور آگ کے عذاب سے بچاؤ۔ اس روایت میں مریض کے لیے آپ کی دعا اور شفا کا ذکر نہیں آیا، اس لیے اسے اسی حد تک بیان کرنا چاہیے۔ سادہ سبق یہ ہے کہ بندہ اللہ سے رحمت اور بھلائی مانگے، اپنے لیے ایسی سختی نہ مانگے جس کی طاقت نہ ہو۔ دعا میں توازن، امید اور آخرت کی فکر ہونی چاہیے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- اپنے لیے اللہ کا عذاب جلدی مانگنا درست رخ نہیں، حدیث میں اس سے روکا گیا۔
- بندے کو اپنی کمزوری کا احساس رکھنا چاہیے۔
- دنیا و آخرت کی بھلائی مانگنا سکھایا گیا ہے۔
- اس روایت میں شفا کا اضافہ ذکر نہیں، اس لیے بات اسی حد تک رہے۔
