صحیح مسلم حدیث ۶۸۳۸ - مذکورہ دعا کی دوسری روایت
جامع دعا کی حدیث: دنیا اور آخرت دونوں کی خیر
صحیح مسلم : ۶۸۳۸
صحیح مسلمحدیث نمبر ۶۸۳۸
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَابْنُ بَشَّارٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا سَالِمُ بْنُ نُوحٍ الْعَطَّارُ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي عَرُوبَةَ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِهَذَا الْحَدِيثِ .
مذکورہ بالا حدیث سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے بھی مروی ہے۔
صحیح مسلم حدیث ۶۸۳۸ کا خلاصہ
یہ روایت سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے اسی مذکورہ حدیث کے طور پر آئی ہے۔ اس لیے اس کا اصل موضوع وہ جامع دعا ہے جس میں دنیا کی بھلائی، آخرت کی بھلائی اور جہنم کے عذاب سے حفاظت مانگی جاتی ہے۔ یہ دعا عام انسان کی ضرورت کو بہت سادہ الفاظ میں جمع کر دیتی ہے۔ بندہ دنیا کی خیر بھی چاہتا ہے، آخرت کی خیر بھی، اور آگ کے عذاب سے بچاؤ بھی۔ اس حدیث کے ساتھ آنے والی روایات میں یہ بھی بتایا گیا کہ ایک بیمار شخص نے اپنے لیے آخرت کا عذاب دنیا میں مانگا تھا، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے بہتر دعا سکھائی۔ یہاں اس روایت کو اسی مضمون کی تائید کے طور پر سمجھا جائے۔ اس میں اصل پیغام یہ ہے کہ دعا میں خیر، عافیت اور آخرت کی حفاظت مانگنی چاہیے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- یہ روایت اسی جامع دعا کے مضمون کی تائید کرتی ہے۔
- دنیا اور آخرت کی بھلائی ایک ہی دعا میں جمع ہے۔
- آگ کے عذاب سے حفاظت مانگنا حدیث میں آیا ہے۔
- دعا میں اپنے لیے خیر مانگنا بہتر رخ ہے۔
