صحیح مسلم حدیث ۶۸۴۰ - نبی صلى الله عليه وسلم کی اکثر دعا
نبی صلى الله عليه وسلم کی اکثر دعا: ربنا آتنا فی الدنیا حسنہ
صحیح مسلم : ۶۸۴۰
صحیح مسلمحدیث نمبر ۶۸۴۰
حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ يَعْنِي ابْنَ عُلَيَّةَ ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ وَهُوَ ابْنُ صُهَيْبٍ ، قَالَ : سَأَلَ قَتَادَةُ أَنَسًا أَيُّ دَعْوَةٍ كَانَ يَدْعُو بِهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَكْثَرَ ؟ ، قَالَ : كَانَ أَكْثَرُ دَعْوَةٍ يَدْعُو بِهَا يَقُولُ : " اللَّهُمَّ آتِنَا فِي الدُّنْيَا حَسَنَةً ، وَفِي الْآخِرَةِ حَسَنَةً ، وَقِنَا عَذَابَ النَّارِ " ، قَالَ : وَكَانَ أَنَسٌ إِذَا أَرَادَ أَنْ يَدْعُوَ بِدَعْوَةٍ دَعَا بِهَا ، فَإِذَا أَرَادَ أَنْ يَدْعُوَ بِدُعَاءٍ دَعَا بِهَا فِيهِ " .
عبدالعزیز بن صہیب روایت:
قتادہ نے انس رضی اللہ عنہ سے پوچھا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کون سی دعا زیادہ مانگتے؟ انس رضی اللہ عنہ نے کہا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم اکثر یہ دعا مانگتے «اللَّهُمَّ آتِنَا فِي الدُّنْيَا حَسَنَةً وَفِي الآخِرَةِ حَسَنَةً، وَقِنَا عَذَابَ النَّارِ» اور انس رضی اللہ عنہ بھی جب دعا کرنا چاہتے تو یہی دعا کرتے اور جب دوسری کوئی دعا کرتے تو اس میں بھی یہ دعا ملا لیتے۔
صحیح مسلم حدیث ۶۸۴۰ کا خلاصہ
یہ حدیث نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اکثر دعا کے بارے میں ہے۔ قتادہ نے سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کون سی دعا زیادہ مانگتے تھے؟ انہوں نے بتایا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اکثر یہ دعا کرتے: اللهم آتنا في الدنيا حسنة وفي الآخرة حسنة وقنا عذاب النار۔ یعنی اے اللہ! ہمیں دنیا میں بھلائی دے، آخرت میں بھلائی دے، اور آگ کے عذاب سے بچا۔ روایت میں یہ بھی آیا کہ سیدنا انس رضی اللہ عنہ جب دعا کرنا چاہتے تو یہی دعا کرتے، اور جب کوئی دوسری دعا کرتے تو اس میں بھی یہ دعا شامل کر لیتے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ دعا مختصر ہونے کے باوجود بہت جامع ہے۔ یہ دنیا، آخرت اور جہنم سے حفاظت، تینوں کو ایک ساتھ جمع کرتی ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اکثر دعا یہی جامع دعا بیان ہوئی ہے۔
- دعا میں دنیا اور آخرت دونوں کی بھلائی مانگی گئی ہے۔
- آگ کے عذاب سے پناہ مانگنا اس دعا کا حصہ ہے۔
- سیدنا انس رضی اللہ عنہ بھی اپنی دعا میں اسے شامل کرتے تھے۔
