صحیح مسلم حدیث ۶۸۴۱ - دنیا اور آخرت کی بھلائی کی دعا
ربنا آتنا دعا: دنیا اور آخرت کی بھلائی مانگنے کا آسان طریقہ
صحیح مسلم : ۶۸۴۱
صحیح مسلمحدیث نمبر ۶۸۴۱
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " رَبَّنَا آتِنَا فِي الدُّنْيَا حَسَنَةً وَفِي الْآخِرَةِ حَسَنَةً وَقِنَا عَذَابَ النَّارِ " .
انس روایت:
اکثر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ دعا تھی «رَبَّنَا آتِنَا فِي الدُّنْيَا حَسَنَةً وَفِي الآخِرَةِ حَسَنَةً، وَقِنَا عَذَابَ النَّارِ» اے مالک ہمارے! ہم کو دنیا میں بھلائی دے اور آخرت میں بھلائی دے اور ہم کو بچا لے آگ کے عذاب سے۔
صحیح مسلم حدیث ۶۸۴۱ کا خلاصہ
اس حدیث میں سیدنا انس رضی اللہ عنہ بتاتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اکثر یہ دعا پڑھا کرتے تھے: «رَبَّنَا آتِنَا فِي الدُّنْيَا حَسَنَةً وَفِي الْآخِرَةِ حَسَنَةً، وَقِنَا عَذَابَ النَّارِ»۔ اس دعا میں بندہ اپنے رب سے تین بڑی باتیں مانگتا ہے: دنیا کی بھلائی، آخرت کی بھلائی، اور آگ کے عذاب سے بچاؤ۔ یہی وجہ ہے کہ “ربنا آتنا دعا”، “دنیا آخرت کی دعا” اور “جہنم سے بچنے کی دعا” جیسے الفاظ اس حدیث کے اصل پیغام سے بہت قریب ہیں۔ یہ دعا لمبی نہیں، مگر معنی کے لحاظ سے بہت وسیع ہے۔ اس میں انسان اپنی روزمرہ زندگی کی خیر بھی مانگتا ہے اور مرنے کے بعد کی کامیابی بھی۔ حدیث میں بتایا گیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم یہ دعا اکثر پڑھتے تھے، اس لیے ایک مسلمان کے لیے اسے اپنی دعاؤں میں شامل کرنا بہت مناسب ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- دعا میں دنیا اور آخرت دونوں کی بھلائی مانگنا چاہیے۔
- جہنم کے عذاب سے اللہ کی پناہ مانگنا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی دعا میں شامل تھا۔
- مختصر دعا بھی بہت جامع ہو سکتی ہے جب اس کے الفاظ معنی سے بھرپور ہوں۔
- نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اکثر پڑھی جانے والی دعا کو یاد رکھنا مفید ہے۔
