صحیح بخاری حدیث ۴۵۲۲ - دنیا و آخرت کی بھلائی کی دعا
ربنا آتنا: دنیا و آخرت کی جامع دعا
صحیح بخاری : ۴۵۲۲
صحیح بخاریحدیث نمبر ۴۵۲۲
حَدَّثَنَا أَبُو مَعْمَرٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ , عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ , عَنْ أَنَسٍ , قَالَ : كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " اللَّهُمَّ رَبَّنَا آتِنَا فِي الدُّنْيَا حَسَنَةً وَفِي الْآخِرَةِ حَسَنَةً وَقِنَا عَذَابَ النَّارِ " .
انس بن مالک روایت:
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم دعا کرتے تھے ” «اللهم ربنا آتنا في الدنيا حسنة وفي الآخرة حسنة وقنا عذاب النار» ”اے پروردگار! ہمارے! ہم کو دنیا میں بھی بہتری دے اور آخرت میں بھی بہتری اور ہم کو دوزخ کے عذاب سے بچائیو۔“
صحیح بخاری حدیث ۴۵۲۲ کا خلاصہ
اس حدیث میں انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم دعا کیا کرتے تھے: ‘اللهم ربنا آتنا في الدنيا حسنة وفي الآخرة حسنة وقنا عذاب النار’۔ اس کا مطلب ہے: اے ہمارے رب! ہمیں دنیا میں بھلائی دے، آخرت میں بھی بھلائی دے، اور ہمیں دوزخ کے عذاب سے بچا۔ یہ دعا بہت مختصر ہے مگر اس میں بندے کی دنیا، آخرت، اور عذاب سے حفاظت تینوں شامل ہیں۔ اس حدیث کا مرکزی موضوع دعا، دنیا کی بھلائی، آخرت کی بھلائی، اور جہنم سے بچاؤ ہے۔ متن میں کوئی لمبی تفصیل نہیں، صرف نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا دعا کرنا بیان ہوا ہے۔ ایک مسلمان کے لیے یہ دعا اس لیے آسان ہے کہ اسے یاد کرنا بھی سہل ہے اور معنی بھی بہت صاف ہیں۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم دنیا اور آخرت دونوں کی بھلائی مانگتے تھے۔
- اس دعا میں دوزخ کے عذاب سے بچنے کی درخواست بھی شامل ہے۔
- مختصر دعا بھی بہت جامع ہو سکتی ہے۔
- دعا میں دنیا کے ساتھ آخرت کو بھی یاد رکھنا چاہیے۔
