صحیح بخاری حدیث ۴۵۲۳ - سخت جھگڑالو شخص کی مذمت

جھگڑالو مزاج: اللہ کے نزدیک ناپسندیدہ رویہ

صحیح بخاریحدیث نمبر ۴۵۲۳

حَدَّثَنَا قَبِيصَةُ , حَدَّثَنَا سُفْيَانُ , عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ , عَنْ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ , عَنْ عَائِشَةَ تَرْفَعُهُ , قَالَ : أَبْغَضُ الرِّجَالِ إِلَى اللَّهِ الْأَلَدُّ الْخَصِمُ , وَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ , حَدَّثَنَا سُفْيَانُ , حَدَّثَنِي ابْنُ جُرَيْجٍ , عَنْ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ , عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ .

عائشہ روایت:

اللہ تعالیٰ کے نزدیک سب سے زیادہ ناپسندیدہ شخص وہ ہے جو سخت جھگڑالو ہو اور عبداللہ (عبداللہ بن ولید عدنی) نے بیان کیا کہ ہم سے سفیان ثوری نے بیان کیا، کہا مجھ سے ابن جریج نے بیان کیا، ان سے ابن ابی ملیکہ نے، ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے اور ان سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا (وہی حدیث جو اوپر گزری)۔

صحیح بخاری حدیث ۴۵۲۳ کا خلاصہ

اس حدیث میں عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ کے نزدیک سب سے زیادہ ناپسندیدہ شخص وہ ہے جو سخت جھگڑالو ہو۔ اس حدیث کا موضوع جھگڑا، ضد، بحث میں سختی، اور اخلاق ہے۔ متن میں کسی خاص مقدمے یا واقعے کی تفصیل نہیں، بلکہ ایک عمومی اخلاقی بات بیان ہوئی ہے۔ اس لیے اس کی وضاحت بھی اسی حد تک ہے کہ مسلمان کو اپنی گفتگو، اختلاف، اور بحث کے انداز کو نرم رکھنا چاہیے۔ اگر بات حق کی ہو تب بھی سخت جھگڑالو مزاج انسان کو نقصان پہنچا سکتا ہے، کیونکہ حدیث میں ناپسندیدگی کا تعلق ایسے شخص سے جوڑا گیا ہے جو الخصم، یعنی جھگڑے میں بہت سخت ہو۔ یہ روایت ہمیں بولنے سے پہلے اپنے لہجے اور نیت کو دیکھنے کی یاد دلاتی ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • اللہ کے نزدیک سخت جھگڑالو شخص ناپسندیدہ ہے۔
  • اختلاف میں زبان اور انداز کو قابو میں رکھنا چاہیے۔
  • دین میں اخلاقی نرمی کی قدر ہے۔
  • ہر بات کو لڑائی میں بدل دینا درست رویہ نہیں۔

اس سے متعلق احادیث

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں