صحیح مسلم حدیث ۶۸۴۳ - سبحان اللہ وبحمدہ صبح شام
صبح شام سبحان اللہ وبحمدہ سو بار پڑھنے کی فضیلت
صحیح مسلم : ۶۸۴۳
صحیح مسلمحدیث نمبر ۶۸۴۳
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ الْأُمَوِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ الْمُخْتَارِ ، عَنْ سُهَيْلٍ ، عَنْ سُمَيٍّ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ قَالَ حِينَ يُصْبِحُ وَحِينَ يُمْسِي سُبْحَانَ اللَّهِ وَبِحَمْدِهِ مِائَةَ مَرَّةٍ ، لَمْ يَأْتِ أَحَدٌ يَوْمَ الْقِيَامَةِ بِأَفْضَلَ مِمَّا جَاءَ بِهِ إِلَّا أَحَدٌ قَالَ مِثْلَ مَا قَالَ أَوْ زَادَ عَلَيْهِ " .
ابوہریرہ روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص صبح کو اور شام کو «سبحان الله وبحمده» سو بار کہے قیامت کے دن اس سے بہتر کوئی عمل لے کر نہ آئے گا مگر جو اتنا ہی یا اس سے زیادہ کہے۔“
صحیح مسلم حدیث ۶۸۴۳ کا خلاصہ
اس حدیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک بہت آسان مگر باقاعدہ ذکر بتایا: صبح کے وقت اور شام کے وقت «سبحان الله وبحمده» سو بار کہنا۔ حدیث کے مطابق قیامت کے دن کوئی شخص اس سے بہتر عمل لے کر نہیں آئے گا، مگر وہ جو یہی ذکر اتنا ہی کہے یا اس سے زیادہ کہے۔ یہاں “صبح شام کا ذکر”، “سبحان اللہ وبحمدہ 100 بار” اور “قیامت کے دن بہتر عمل” اصل موضوع ہیں۔ اس حدیث سے یہ بات سامنے آتی ہے کہ ذکر صرف کبھی کبھار کا کام نہیں، بلکہ دن کے آغاز اور اختتام پر اللہ کو یاد کرنا ایک خوبصورت معمول ہے۔ الفاظ مختصر ہیں، مگر ان میں اللہ کی پاکی اور حمد دونوں شامل ہیں۔ یہ حدیث انسان کو بتاتی ہے کہ صبح و شام زبان کو اللہ کے ذکر سے تر رکھنا بڑا قیمتی عمل ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- صبح اور شام اللہ کا ذکر کرنے کی خاص فضیلت بیان ہوئی ہے۔
- «سبحان الله وبحمده» میں اللہ کی پاکی اور تعریف دونوں آتی ہیں۔
- حدیث میں سو بار کہنے کا خاص ذکر ہے۔
- زیادہ ذکر کرنے والے کے لیے بھی حدیث میں مزید عمل کی گنجائش بیان ہوئی ہے۔
