صحیح مسلم حدیث ۶۸۷ - حیض میں کنگھی
حائضہ عورت کا کنگھی کرنا
صحیح مسلم : ۶۸۷
صحیح مسلمحدیث نمبر ۶۸۷
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، أَخْبَرَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ ، عَنْ هِشَامٍ ، أَخْبَرَنَا عُرْوَةُ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّهَا قَالَتْ : " كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُدْنِي إِلَيَّ رَأْسَهُ وَأَنَا فِي حُجْرَتِي ، فَأُرَجِّلُ رَأْسَهُ وَأَنَا حَائِضٌ " .
عائشہ روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنا سر میرے نزدیک کر دیتے اور میں حجرہ میں ہوتی پھر میں کنگھی کرتی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سر میں اور میں حائضہ ہوتی۔
صحیح مسلم حدیث ۶۸۷ کا خلاصہ
یہ حدیث حائضہ عورت کے بارے میں ایک عام غلط فہمی کو سادہ انداز میں دور کرتی ہے۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنا سر ان کے قریب کر دیتے، وہ اپنے حجرے میں ہوتیں، پھر وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سر میں کنگھی کرتیں، حالانکہ وہ حائضہ ہوتیں۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ حیض کی حالت عورت کو عام گھریلو خدمت اور پاکیزہ تعلق سے الگ نہیں کرتی۔ حائضہ عورت کا حکم یہ نہیں کہ اس کے ہاتھ یا اس کا لمس ہر حال میں ناپاک سمجھا جائے۔ حدیث میں صرف کنگھی کا عمل بیان ہوا ہے، اسی لیے بات کو اسی دائرے میں رکھنا چاہیے۔ یہ روایت حائضہ عورت سے حسن سلوک اور روزمرہ پاکیزہ میل جول کی اچھی مثال ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- حائضہ عورت عام پاکیزہ خدمت کر سکتی ہے، جیسا کہ کنگھی کا ذکر آیا۔
- رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس حالت کو دوری کا سبب نہیں بنایا۔
- حدیث میں حائضہ عورت کے لمس کو ناپاک نہیں کہا گیا۔
- روزمرہ گھریلو تعلق میں نرمی اور اعتماد ہونا چاہیے۔
