صحیح مسلم حدیث ۶۸۸ - حیض میں سر دھونا
حائضہ عورت کا سر دھونا: حدیث کی آسان سمجھ
صحیح مسلم : ۶۸۸
صحیح مسلمحدیث نمبر ۶۸۸
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ ، عَنْ زَائِدَةَ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنِ الأَسْوَدِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : " كُنْتُ أَغْسِلُ رَأْسَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَأَنَا حَائِضٌ " .
عائشہ روایت:
میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا سر دھوتی اور میں حائضہ ہوتی۔
صحیح مسلم حدیث ۶۸۸ کا خلاصہ
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا سر دھوتی تھیں، حالانکہ وہ حائضہ ہوتیں۔ حدیث بہت مختصر ہے، مگر اس کا مطلب صاف ہے۔ حائضہ عورت کو اس طرح نہیں سمجھنا چاہیے کہ وہ کسی پاک چیز کو چھو ہی نہیں سکتی یا گھر کے عام کام سے الگ ہو جائے۔ یہاں سر دھونے کا عمل بیان ہوا ہے، جو ایک قریبی گھریلو خدمت ہے۔ اس سے حائضہ عورت کا حکم، حیض میں صفائی، اور حائضہ کے ہاتھ کے بارے میں ایک معتدل بات سمجھ آتی ہے۔ اس حدیث میں نماز، مسجد میں داخلہ یا دوسرے بڑے مسائل کا ذکر نہیں، اس لیے وضاحت بھی اسی ایک عمل تک رکھی گئی ہے: حیض کی حالت میں سر دھونا روایت میں آیا ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- حائضہ عورت کا پاکیزہ گھریلو کام کرنا روایت سے ثابت ہے۔
- سر دھونے کے عمل میں حائضہ ہونے کو رکاوٹ نہیں بنایا گیا۔
- حدیث سے حائضہ عورت کے بارے میں سخت دوری کا تصور نہیں ملتا۔
- جو عمل حدیث میں بیان ہے، بات اسی تک محدود رکھنی چاہیے۔
