صحیح مسلم حدیث ۶۸۷۰ - گھر اور نماز کی دعا
نماز اور گھر کی دعا: اللہ سے مغفرت اور رحم کی درخواست
صحیح مسلم : ۶۸۷۰
صحیح مسلمحدیث نمبر ۶۸۷۰
وحَدَّثَنِيهِ أَبُو الطَّاهِرِ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي رَجُلٌ سَمَّاهُ ، وَعَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ ، عَنْ أَبِي الْخَيْرِ ، أَنَّهُ سَمِعَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ ، يَقَولُ : إِنَّ أَبَا بَكْرٍ الصِّدِّيقَ ، قَالَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : عَلِّمْنِي يَا رَسُولَ اللَّهِ دُعَاءً أَدْعُو بِهِ فِي صَلَاتِي وَفِي بَيْتِي ، ثُمَّ ذَكَرَ بِمِثْلِ حَدِيثِ اللَّيْثِ غَيْرَ أَنَّهُ ، قَالَ : ظُلْمًا كَثِيرًا .
ترجمہ وہی ہے جو اوپر گزرا۔ اس میں یہ ہے کہ جس کو میں پڑھا کروں اپنی نماز میں اور اپنے گھر میں۔
صحیح مسلم حدیث ۶۸۷۰ کا خلاصہ
اس روایت میں سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ایسی دعا سکھانے کی درخواست کی جسے وہ اپنی نماز میں اور اپنے گھر میں پڑھا کریں۔ پھر وہی دعا نقل ہوئی جس میں بندہ کہتا ہے کہ یا اللہ! میں نے اپنے نفس پر بہت ظلم کیا ہے، اور گناہوں کو تیرے سوا کوئی نہیں بخش سکتا، پس مجھے اپنے پاس سے مغفرت دے اور مجھ پر رحم فرما۔ اس حدیث میں خاص بات یہ ہے کہ دعا کو نماز کے ساتھ گھر میں بھی پڑھنے کا ذکر آیا ہے۔ استغفار کی دعا ہمیں سکھاتی ہے کہ بندہ صرف مسجد یا نماز ہی نہیں، گھر کی تنہائی میں بھی اللہ سے معافی مانگ سکتا ہے۔ الفاظ چھوٹے ہیں مگر ان میں عاجزی، اقرار اور امید جمع ہیں۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- یہ دعا نماز میں بھی پڑھی جا سکتی ہے اور گھر میں بھی، جیسا کہ متن میں آیا ہے۔
- بندہ اللہ کے سامنے اپنے نفس پر ظلم کا اقرار کرتا ہے۔
- گناہوں کی بخشش صرف اللہ سے مانگنے کی تعلیم ہے۔
- دعا میں مغفرت کے ساتھ اللہ کی رحمت بھی مانگی گئی ہے۔
