صحیح مسلم حدیث ۶۸۶۱ - توبہ کا دروازہ بند ہونے سے پہلے
توبہ کی حدیث: سورج مغرب سے نکلنے سے پہلے معافی
صحیح مسلم : ۶۸۶۱
صحیح مسلمحدیث نمبر ۶۸۶۱
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ يَعْنِي سُلَيْمَانَ بْنَ حَيَّانَ . ح وحَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ . ح وحَدَّثَنِي أَبُو سَعِيدٍ الْأَشَجُّ ، حَدَّثَنَا حَفْصٌ يَعْنِي ابْنَ غِيَاثٍ كُلُّهُمْ ، عَنْ هِشَامٍ . ح وحَدَّثَنِي أَبُو خَيْثَمَةَ زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ وَاللَّفْظُ لَهُ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ حَسَّانَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ تَابَ قَبْلَ أَنْ تَطْلُعَ الشَّمْسُ مِنْ مَغْرِبِهَا تَابَ اللَّهُ عَلَيْهِ " .
ابوہریرہ روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص توبہ کرے پہلے اس سے کہ آفتاب پچھم سے نکلے تو اللہ اس کو معاف کرے گا۔ (بعد آفتاب کے پچھم سے نکلنے کے توبہ قبول نہ ہو گی، اسی طرح جاں کنی یعنی نزع کے وقت توبہ قبول نہ ہو گی نہ اس کی وصیت نافذ ہو گی)۔
صحیح مسلم حدیث ۶۸۶۱ کا خلاصہ
اس حدیث کا اصل موضوع توبہ ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صاف بات فرمائی کہ جو شخص سورج کے مغرب سے نکلنے سے پہلے توبہ کرے، اللہ اس کی توبہ قبول فرماتا ہے۔ اس سے بندے کو امید بھی ملتی ہے اور جلدی کی ترغیب بھی۔ توبہ کی حدیث ہمیں یہ سمجھاتی ہے کہ غلطی ہو جائے تو اسے دل پر بوجھ بنا کر نہ رکھا جائے، بلکہ اللہ کی طرف پلٹا جائے۔ متن میں نزع کے وقت اور سورج کے مغرب سے نکلنے کے بعد توبہ قبول نہ ہونے کا ذکر بھی ہے، اس لیے انسان کو ٹال مٹول نہیں کرنی چاہیے۔ اللہ سے معافی مانگنا، گناہ چھوڑنا اور وقت رہتے رجوع کرنا اس حدیث کا سیدھا پیغام ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- توبہ کو مؤخر نہ کیا جائے، کیونکہ قبولیت کے لیے وقت کی حد بیان ہوئی ہے۔
- اللہ تعالیٰ توبہ کرنے والے کو معاف فرماتا ہے، جب توبہ مقررہ حد سے پہلے ہو۔
- گناہ کے بعد اللہ کی طرف رجوع کرنا مومن کے لیے امید کا راستہ ہے۔
- نزع کے وقت یا بڑی نشانی کے بعد توبہ کا معاملہ مختلف ہو جاتا ہے، اس لیے جلدی بہتر ہے۔
