صحیح مسلم حدیث ۶۸۸۰ - شام کی پناہ

شام کی دعا: بچھو اور مخلوق کے شر سے پناہ

صحیح مسلمحدیث نمبر ۶۸۸۰

(حديث مرفوع) قَالَ يَعْقُوبُ وَقَالَ الْقَعْقَاعُ بْنُ حَكِيمٍ ، عَنْ ذَكْوَانَ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّهُ قَالَ : جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، مَا لَقِيتُ مِنْ عَقْرَبٍ لَدَغَتْنِي الْبَارِحَةَ ، قَالَ : " أَمَا لَوْ قُلْتَ حِينَ أَمْسَيْتَ أَعُوذُ بِكَلِمَاتِ اللَّهِ التَّامَّاتِ مِنْ شَرِّ مَا خَلَقَ لَمْ تَضُرَّكَ " ،

ابوہریرہ روایت:

ایک شخص آیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اور بولا: یا رسول اللہ! مجھے بڑی تکلیف پہنچی اس بچھو سے جس نے کل رات کو مجھے کاٹا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر تو شام کو یہ کہہ لیتا «أَعُوذُ بِكَلِمَاتِ اللَّهِ التَّامَّاتِ مِنْ شَرِّ مَا خَلَقَ» تو تجھے ضرر نہ کرتا (نہ کاٹتا تو نہ تکلیف ہوتی)۔

صحیح مسلم حدیث ۶۸۸۰ کا خلاصہ

اس حدیث کا اصل موضوع شام کی پناہ کی دعا ہے۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہا کہ رات مجھے بچھو کے ڈسنے سے بڑی تکلیف پہنچی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگر تم شام کو اعوذ بکلمات اللہ التامات من شر ما خلق کہہ لیتے تو وہ تمہیں نقصان نہ پہنچاتا۔ اس روایت میں خاص طور پر شام کے وقت اس دعا کا ذکر ہے اور واقعہ بچھو کے ڈسنے سے متعلق ہے۔ اس لیے اعوذ بکلمات اللہ التامات کی حدیث ہمیں سکھاتی ہے کہ مخلوق کے شر سے اللہ کی پناہ مانگی جائے۔ متن میں حفاظت کا تعلق اس دعا سے بیان ہوا ہے، اس لیے مسلمان شام کے اذکار میں اسے توجہ سے پڑھ سکتا ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • شام کے وقت اعوذ بکلمات اللہ التامات پڑھنے کی تعلیم دی گئی ہے۔
  • حدیث میں بچھو کے ڈسنے کے واقعے سے اس دعا کی اہمیت بیان ہوئی۔
  • دعا میں مخلوق کے شر سے اللہ کی پناہ مانگی گئی ہے۔
  • حفاظت کا سبب اللہ کی پناہ ہے، جس کی طرف حدیث رہنمائی کرتی ہے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں