صحیح مسلم حدیث ۶۸۷۸ - منزل کی دعا
منزل پر اترنے کی دعا: اعوذ بکلمات اللہ التامات
صحیح مسلم : ۶۸۷۸
صحیح مسلمحدیث نمبر ۶۸۷۸
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ . ح وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ وَاللَّفْظُ لَهُ ، أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ ، عَنْ الْحَارِثِ بْنِ يَعْقُوبَ ، أَنَّ يَعْقُوبَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ حَدَّثَهُ أَنَّهُ سَمِعَ بُسْرَ بْنَ سَعِيدٍ ، يَقُولُ : سَمِعْتُ سَعْدَ بْنَ أَبِي وَقَّاصٍ ، يَقُولُ : سَمِعْتُ خَوْلَةَ بِنْتَ حَكِيمٍ السُّلَمِيَّةَ ، تَقُولُ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " مَنْ نَزَلَ مَنْزِلًا ، ثُمَّ قَالَ : أَعُوذُ بِكَلِمَاتِ اللَّهِ التَّامَّاتِ مِنْ شَرِّ مَا خَلَقَ ، لَمْ يَضُرَّهُ شَيْءٌ حَتَّى يَرْتَحِلَ مِنْ مَنْزِلِهِ ذَلِكَ " .
خولہ بنت حکیم سلیمہ روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے میں نے سنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے: ”جو شخص کسی منزل میں اترے پھر کہے: «أَعُوذُ بِكَلِمَاتِ اللَّهِ التَّامَّاتِ مِنْ شَرِّ مَا خَلَقَ» پناہ مانگتا ہوں میں اللہ کے پورے کلموں کی، برائی سے اس کے جو اللہ نے پیدا کیا، تو اس کو کوئی چیز نقصان نہ پہنچائے گی یہاں تک کہ وہ کوچ کرے اس منزل سے۔“
صحیح مسلم حدیث ۶۸۷۸ کا خلاصہ
اس حدیث کا اصل موضوع منزل پر اترنے کی دعا ہے۔ سیدہ خولہ بنت حکیم رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص کسی منزل میں اترے، پھر کہے اعوذ بکلمات اللہ التامات من شر ما خلق، تو اس کو کوئی چیز نقصان نہیں پہنچائے گی یہاں تک کہ وہ اس منزل سے روانہ ہو جائے۔ یہ سفر کی دعا عام انسان کے لیے بہت آسان ہے۔ جب کوئی شخص کسی نئی جگہ، راستے یا قیام گاہ پر اترے تو اللہ کے کامل کلمات کی پناہ مانگے۔ حدیث میں حفاظت کا تعلق اسی دعا اور اسی منزل میں ٹھہرنے کی مدت سے بیان ہوا ہے۔ اس لیے بات کو اسی طرح رکھنا چاہیے۔ اعوذ بکلمات اللہ التامات کی حدیث بندے کو سکھاتی ہے کہ جگہ بدلنے پر بھی اصل سہارا اللہ کی پناہ ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- کسی منزل پر اترتے وقت یہ دعا پڑھنے کی تعلیم دی گئی ہے۔
- دعا میں اللہ کے کامل کلمات کے ذریعے مخلوق کے شر سے پناہ مانگی گئی ہے۔
- حدیث میں اسی منزل سے روانہ ہونے تک حفاظت کا ذکر آیا ہے۔
- سفر یا قیام کے وقت اللہ کی پناہ مانگنا بندے کے لیے اہم عمل ہے۔
