صحیح مسلم حدیث ۶۸۷۷ - بری تقدیر سے پناہ

بری قضا اور سخت بلا سے پناہ کی دعا

صحیح مسلمحدیث نمبر ۶۸۷۷

حَدَّثَنِي عَمْرٌو النَّاقِدُ ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، حَدَّثَنِي سُمَيٌّ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ : أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ " يَتَعَوَّذُ مِنْ سُوءِ الْقَضَاءِ ، وَمِنْ دَرَكِ الشَّقَاءِ ، وَمِنْ شَمَاتَةِ الْأَعْدَاءِ ، وَمِنْ جَهْدِ الْبَلَاءِ " ، قَالَ عَمْرٌ وَفِي حَدِيثِهِ : قَالَ سُفْيَانُ : أَشُكُّ أَنِّي زِدْتُ وَاحِدَةً مِنْهَا .

ابوہریرہ روایت:

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بری قضاء سے پناہ مانگتے تھے اور بدبختی میں پڑنے سے اور دشمنوں کے خوش ہونے سے اور بلا کی سختی سے۔

صحیح مسلم حدیث ۶۸۷۷ کا خلاصہ

اس حدیث کا اصل موضوع اللہ سے پناہ مانگنا ہے۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بری قضا، بدبختی میں پڑنے، دشمنوں کے خوش ہونے اور بلا کی سختی سے پناہ مانگتے تھے۔ یہ دعا انسان کی زندگی کے مشکل پہلوؤں سے متعلق ہے۔ ہر بندہ آزمائش، دکھ، دوسروں کی خوشی بننے والی پریشانی اور سخت حالات سے بچنا چاہتا ہے، مگر حدیث ہمیں سکھاتی ہے کہ حفاظت کا اصل دروازہ اللہ کی پناہ ہے۔ بری تقدیر سے پناہ کی حدیث میں الفاظ کم ہیں مگر معنی واضح ہیں: بندہ اپنے رب سے ایسے فیصلوں اور حالات سے بچنے کی دعا کرے جو اس کے لیے تکلیف کا باعث بنیں۔ متن کے آخر میں راوی کے شک کا ذکر بھی ہے، اس لیے الفاظ کو احتیاط سے بیان کرنا چاہیے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بری قضا سے پناہ مانگتے تھے۔
  • بدبختی، دشمنوں کی خوشی اور سخت بلا سے حفاظت مانگی گئی۔
  • مشکل حالات میں اللہ کی پناہ مانگنا سکھایا گیا ہے۔
  • روایت میں راوی کے شک کا ذکر ہے، اس لیے الفاظ میں احتیاط بہتر ہے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں