صحیح مسلم حدیث ۶۸۷۶ - ارذل عمر سے پناہ
ارذل عمر اور سستی سے پناہ کی دعا
صحیح مسلم : ۶۸۷۶
صحیح مسلمحدیث نمبر ۶۸۷۶
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ نَافِعٍ الْعَبْدِيُّ ، حَدَّثَنَا بَهْزُ بْنُ أَسَدٍ الْعَمِّيُّ ، حَدَّثَنَا هَارُونُ الْأَعْوَرُ ، حَدَّثَنَا شُعَيْبُ بْنُ الْحَبْحَابِ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ : كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدْعُو بِهَؤُلَاءِ الدَّعَوَاتِ : " اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْبُخْلِ وَالْكَسَلِ وَأَرْذَلِ الْعُمُرِ ، وَعَذَابِ الْقَبْرِ وَفِتْنَةِ الْمَحْيَا وَالْمَمَاتِ " .
ترجمہ وہی ہے جو اوپر گزرا۔
صحیح مسلم حدیث ۶۸۷۶ کا خلاصہ
اس حدیث کا اصل موضوع پناہ کی دعا ہے۔ سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم یہ دعائیں کیا کرتے تھے: یا اللہ! میں تیری پناہ مانگتا ہوں بخل، سستی، ارذل عمر، عذاب قبر اور زندگی و موت کے فتنے سے۔ یہاں ارذل عمر کا لفظ آیا ہے، یعنی وہ عمر جس میں انسان کمزور ہو جائے؛ متن کے اندر اس کی لمبی تشریح نہیں، اس لیے ہم بات کو دعا کے الفاظ تک رکھتے ہیں۔ سستی سے پناہ کی حدیث انسان کو عمل کی طرف متوجہ کرتی ہے۔ بخل سے پناہ دل کی تنگی سے بچنے کی دعا ہے۔ عذاب قبر اور فتنہ محیا و ممات کا ذکر بندے کو آخرت اور اپنے انجام کی فکر دلاتا ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بخل اور سستی سے پناہ مانگتے تھے۔
- اس روایت میں ارذل عمر سے پناہ کا ذکر آیا ہے۔
- عذاب قبر اور زندگی و موت کے فتنے سے حفاظت مانگی گئی ہے۔
- دعا بندے کو اپنی کمزوریوں کے لیے اللہ کی طرف رجوع سکھاتی ہے۔
