صحیح مسلم حدیث ۶۸۷۳ - سستی سے پناہ
سستی اور بخل سے پناہ کی دعا: عذاب قبر سے حفاظت
صحیح مسلم : ۶۸۷۳
صحیح مسلمحدیث نمبر ۶۸۷۳
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَيَّةَ ، قَالَ : وَأَخْبَرَنَا سُلَيْمَانُ التَّيْمِيُّ ، حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ ، قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْعَجْزِ وَالْكَسَلِ وَالْجُبْنِ وَالْهَرَمِ وَالْبُخْلِ ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ وَمِنْ فِتْنَةِ الْمَحْيَا وَالْمَمَاتِ " ،
انس بن مالک روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے: «اللَّهُمَّ إِنِّى أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْعَجْزِ وَالْكَسَلِ وَالْجُبْنِ وَالْهَرَمِ وَالْبُخْلِ وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ وَمِنْ فِتْنَةِ الْمَحْيَا وَالْمَمَاتِ» یا اللہ! میں تیری پناہ مانگتا ہوں عاجزی، سستی، نامردی اور بڑھاپے (اس بڑھاپے سے جس میں عقل و ہوش جاتا رہے اور عبادت نہ ہو سکے) اور بخیلی سے اور پناہ مانگتا ہوں تیری قبر کے عذاب اور زندگی اور موت کے فتنہ سے۔
صحیح مسلم حدیث ۶۸۷۳ کا خلاصہ
اس حدیث کا اصل موضوع پناہ کی دعا ہے۔ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یہ دعا کیا کرتے تھے: یا اللہ! میں تیری پناہ مانگتا ہوں عاجزی، سستی، بزدلی، بڑھاپے اور بخل سے، اور تیری پناہ مانگتا ہوں عذاب قبر سے اور زندگی اور موت کے فتنے سے۔ یہ دعا بہت سادہ مگر عملی ہے۔ اس میں انسان کی وہ کمزوریاں ذکر ہوئی ہیں جو عمل، ہمت اور سخاوت کو متاثر کر سکتی ہیں۔ سستی سے پناہ کی حدیث ہمیں بتاتی ہے کہ نیک کام کے لیے اللہ کی مدد مانگنی چاہیے۔ عذاب قبر اور زندگی و موت کے فتنے سے پناہ مانگنا بندے کو آخرت کی فکر بھی یاد دلاتا ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم عاجزی، سستی، بزدلی، بڑھاپے اور بخل سے پناہ مانگتے تھے۔
- حدیث میں عذاب قبر سے پناہ مانگنے کا ذکر ہے۔
- زندگی اور موت کے فتنے سے حفاظت بھی اللہ سے مانگی گئی ہے۔
- دعا بندے کو کمزوریوں کے مقابلے میں اللہ کی مدد مانگنا سکھاتی ہے۔
