صحیح مسلم حدیث ۶۸۷۴ - عذاب قبر سے پناہ
سستی، بخل اور عذاب قبر سے پناہ کی حدیث
صحیح مسلم : ۶۸۷۴
صحیح مسلمحدیث نمبر ۶۸۷۴
وحَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ . ح وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى ، حَدَّثَنَا مُعْتَمِرٌ كِلَاهُمَا ، عَنْ التَّيْمِيِّ ، عَنْ أَنَسٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِهِ ، غَيْرَ أَنَّ يَزِيدَ لَيْسَ فِي حَدِيثِهِ قَوْلُهُ وَمِنْ فِتْنَةِ الْمَحْيَا وَالْمَمَاتِ ،
ترجمہ وہی ہے جو اوپر گزرا لیکن اس میں زندگی اور موت کے فتنے کا ذکر نہیں ہے۔
صحیح مسلم حدیث ۶۸۷۴ کا خلاصہ
اس روایت میں بتایا گیا ہے کہ متن پچھلی دعا جیسا ہے، لیکن اس میں زندگی اور موت کے فتنے کا ذکر نہیں۔ اس لیے اس حدیث کا اصل موضوع بھی پناہ کی دعا ہے، خاص طور پر سستی، کمزوری، بخل، بڑھاپے اور عذاب قبر سے پناہ۔ روایت کا یہ فرق ہمیں محتاط بناتا ہے کہ ہر حدیث کے الفاظ کو اسی طرح بیان کیا جائے جیسے وہ نقل ہوئے ہیں۔ سستی سے پناہ کی دعا بندے کو اپنے عمل کی کمزوریوں پر نظر کرنے کا موقع دیتی ہے۔ بخل سے پناہ مانگنا مال کے معاملے میں دل کی تنگی سے بچنے کی درخواست ہے۔ عذاب قبر سے پناہ کا ذکر آخرت کی یاد دلاتا ہے۔ یہاں زندگی اور موت کے فتنے کا ذکر نہ ہونے کو بھی اسی طرح بیان کرنا چاہیے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- یہ روایت پچھلی دعا کے قریب ہے، مگر اس میں زندگی اور موت کے فتنے کا ذکر نہیں۔
- سستی، بخل اور کمزوری سے پناہ مانگنا اس مضمون کا حصہ ہے۔
- عذاب قبر سے اللہ کی پناہ مانگنا روایت میں آیا ہے۔
- حدیث کے الفاظ میں موجود فرق کو محفوظ رکھنا ضروری ہے۔
