صحیح مسلم حدیث ۶۸۷۹ - منزل کی حفاظت
اعوذ بکلمات اللہ التامات: منزل پر حفاظت کی دعا
صحیح مسلم : ۶۸۷۹
صحیح مسلمحدیث نمبر ۶۸۷۹
وحَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ مَعْرُوفٍ ، وَأَبُو الطَّاهِرِ كِلَاهُمَا ، عَنْ ابْنِ وَهْبٍ وَاللَّفْظُ لِهَارُونَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ، قَالَ : وَأَخْبَرَنَا عَمْرٌو وَهُوَ ابْنُ الْحَارِثِ ، أَنَّ يَزِيدَ بْنَ أَبِي حَبِيبٍ ، وَالْحَارِثَ بْنَ يَعْقُوبَ حَدَّثَاهُ ، عَنْ يَعْقُوبَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْأَشَجِّ، عَنْ بُسْرِ بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ ، عَنْ خَوْلَةَ بِنْتِ حَكِيمٍ السُّلَمِيَّةِ أَنَّهَا سَمِعَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " إِذَا نَزَلَ أَحَدُكُمْ مَنْزِلًا ، فَلْيَقُلْ أَعُوذُ بِكَلِمَاتِ اللَّهِ التَّامَّاتِ مِنْ شَرِّ مَا خَلَقَ ، فَإِنَّهُ لَا يَضُرُّهُ شَيْءٌ حَتَّى يَرْتَحِلَ مِنْهُ " .
مذکورہ بالا حدیث اس سند سے بھی مروی ہے۔
صحیح مسلم حدیث ۶۸۷۹ کا خلاصہ
اس روایت میں وہی مضمون ایک اور سند سے آیا ہے کہ جب تم میں سے کوئی کسی منزل پر اترے تو اسے کہنا چاہیے: اعوذ بکلمات اللہ التامات من شر ما خلق۔ پھر بتایا گیا کہ اسے کوئی چیز نقصان نہیں پہنچائے گی یہاں تک کہ وہ وہاں سے روانہ ہو جائے۔ اس حدیث میں الفاظ ہدایت کے انداز میں آئے ہیں، یعنی جب کوئی اترے تو یہ دعا کہے۔ منزل پر اترنے کی دعا سفر کرنے والوں، راستے میں ٹھہرنے والوں اور کسی جگہ قیام کرنے والوں کے لیے بہت سادہ عمل ہے۔ متن میں پناہ اللہ کے کامل کلمات کے ذریعے مخلوق کے شر سے مانگی گئی ہے۔ اس لیے اعوذ بکلمات اللہ التامات کی حدیث ہمیں یہ سمجھاتی ہے کہ نئی جگہ پر دل کو اللہ کی پناہ سے مضبوط کیا جائے، اور حفاظت اسی مدت کے ساتھ بیان ہوئی ہے جب تک انسان وہاں سے روانہ نہ ہو۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- منزل پر اترنے کے وقت یہ دعا کہنے کی ہدایت دی گئی ہے۔
- دعا میں مخلوق کے شر سے اللہ کے کامل کلمات کی پناہ مانگی گئی ہے۔
- روایت میں اس جگہ سے روانہ ہونے تک حفاظت کا ذکر ہے۔
- یہ روایت پچھلی حدیث کے مضمون کو ایک اور سند سے بیان کرتی ہے۔
