صحیح مسلم حدیث ۶۸۸۱ - بچھو کے ڈنک سے بچاؤ کی دعا
بچھو کے ڈنک سے بچاؤ کی دعا اور اللہ سے پناہ
صحیح مسلم : ۶۸۸۱
صحیح مسلمحدیث نمبر ۶۸۸۱
وحَدَّثَنِي عِيسَى بْنُ حَمَّادٍ الْمِصْرِيُّ ، أَخْبَرَنِي اللَّيْثُ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ ، عَنْ جَعْفَرٍ ، عَنْ يَعْقُوبَ ، أَنَّهُ ذَكَرَ لَهُ أَنَّ أَبَا صَالِحٍ مَوْلَى غَطَفَانَ أَخْبَرَهُ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ ، يَقُولُ : قَالَ رَجُلٌ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، لَدَغَتْنِي عَقْرَبٌ ، بِمِثْلِ حَدِيثِ ابْنِ وَهْبٍ .
ترجمہ وہی ہے جو اوپر گزرا۔
صحیح مسلم حدیث ۶۸۸۱ کا خلاصہ
اس حدیث کا اصل موضوع بچھو کے ڈنک سے بچاؤ کی دعا اور اللہ سے پناہ مانگنا ہے۔ روایت میں ایک آدمی نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ! مجھے بچھو نے ڈنک مارا۔ اسی مضمون والی روایت کے مطابق آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے بتایا کہ اگر شام کے وقت یہ دعا پڑھ لیتے: «أَعُوذُ بِكَلِمَاتِ اللَّهِ التَّامَّاتِ مِنْ شَرِّ مَا خَلَقَ» تو اللہ کے حکم سے نقصان سے بچاؤ ہوتا۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ مسلمان کو شام کی دعا، حفاظت کی دعا اور شر سے پناہ والی دعاؤں کا اہتمام کرنا چاہیے۔ یہ علاج کے انکار کی بات نہیں، بلکہ دل کو اللہ کی طرف متوجہ کرنے کی تعلیم ہے۔ بندہ اپنی کمزوری مانتا ہے اور ہر مخلوق کے شر سے اللہ کی پناہ لیتا ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- شام کے وقت اللہ سے پناہ مانگنا حدیث سے ثابت عمل ہے۔
- مخلوق کے شر سے حقیقی حفاظت اللہ ہی کے اختیار میں ہے۔
- بچھو یا کسی تکلیف کے وقت بندہ اللہ کی طرف رجوع کرے۔
- دعا کو معمول بنانا غفلت سے بہتر ہے۔
