حدیث ۶۸۶۲

صحیح مسلمحدیث نمبر ۶۸۶۲

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ ، وَأَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنْ عَاصِمٍ ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ ، عَنْ أَبِي مُوسَى ، قَالَ : كُنَّا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ ، فَجَعَلَ النَّاسُ يَجْهَرُونَ بِالتَّكْبِيرِ ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَيُّهَا النَّاسُ ارْبَعُوا عَلَى أَنْفُسِكُمْ إِنَّكُمْ لَيْسَ تَدْعُونَ أَصَمَّ ، وَلَا غَائِبًا إِنَّكُمْ تَدْعُونَ سَمِيعًا قَرِيبًا وَهُوَ مَعَكُمْ ، قَالَ : وَأَنَا خَلْفَهُ وَأَنَا أَقُولُ لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ " ، فَقَالَ : يَا عَبْدَ اللَّهِ بْنَ قَيْسٍ : " أَلَا أَدُلُّكَ عَلَى كَنْزٍ مِنْ كُنُوزِ الْجَنَّةِ ؟ " ، فَقُلْتُ : بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ ، قَالَ : " قُلْ لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ " ،

‏‏‏‏ سیدنا ابوموسٰی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے ایک سفر میں، لوگ پکار کر تکبیر کہنے لگے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے لوگو! نرمی کرو اپنی جانوں پر (یعنی آہستہ سے ذکر کرو) کیونکہ تم کسی بہرے یا غائب کو نہیں پکارتے ہو، تم پکارتے ہو اس کو جو (ہر جگہ سے) سنتا ہے، نزدیک ہے اور تمہارے ساتھ ہے۔“ (یعنی علم اور احاطہ سے نووی رحمہ اللہ) سیدنا ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ نے کہا: میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے تھا اور میں «لا حول ولا قوة الا بالله» کہہ رہا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے عبداللہ بن قیس! میں تجھ کو جنت کے خزانوں میں سے ایک خزانہ بتلاؤں۔“ میں نے عرض کیا: بتلائیے یا رسول اللہ! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کہہ «لا حول ولا قوة الا بالله» “ (یہ کلمہ تفویض کا ہے اور اس میں اقرار ہے کہ اور کسی کو نہ طاقت ہے، نہ قدرت اس وجہ سے اللہ تعالیٰ کو بہت پسند ہے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں