صحیح مسلم حدیث ۶۸۹۴ - کھانے پینے اور ٹھکانے پر شکر
کھانے، پینے اور ٹھکانے پر شکر کی دعا
صحیح مسلم : ۶۸۹۴
صحیح مسلمحدیث نمبر ۶۸۹۴
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، عَنْ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَةَ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا أَوَى إِلَى فِرَاشِهِ ، قَالَ : " الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي أَطْعَمَنَا وَسَقَانَا وَكَفَانَا وَآوَانَا ، فَكَمْ مِمَّنْ لَا كَافِيَ لَهُ وَلَا مُؤْوِيَ ؟ " .
انس روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب اپنے بچھونے پر جاتے تو فرماتے: ” «الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِى أَطْعَمَنَا وَسَقَانَا وَكَفَانَا وَآوَانَا فَكَمْ مِمَّنْ لاَ كَافِىَ لَهُ وَلاَ مُئْوِىَ» شکر ہے اس اللہ کا جس نے ہم کو کھلایا اور پلایا اور کافی ہوا ہمارے لیے اور ٹھکانا دیا ہم کو، کتنے لوگ ایسے ہیں جن کے لیے نہ کوئی کافی ہے نہ کوئی ٹھکانا ہے۔“
صحیح مسلم حدیث ۶۸۹۴ کا خلاصہ
اس حدیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا بستر پر جاتے وقت پڑھا جانے والا شکر بیان ہوا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے: شکر ہے اس اللہ کا جس نے ہمیں کھلایا، پلایا، ہمارے لیے کافی ہوا اور ہمیں ٹھکانا دیا۔ پھر فرمایا کہ کتنے لوگ ایسے ہیں جن کے لیے نہ کوئی کافی ہونے والا ہے اور نہ کوئی ٹھکانا دینے والا۔ یہ دعا شکر کی دعا ہے، خاص طور پر کھانا، پانی، کفایت اور رہنے کی جگہ جیسی نعمتوں پر۔ اس میں انسان کو اپنی روزمرہ نعمتوں پر غور کرنے کی تعلیم ہے۔ رات کو سوتے وقت جب بندہ اپنے بستر پر آرام پاتا ہے تو اسے یاد کرنا چاہیے کہ یہ سب اللہ کی عطا ہے۔ حدیث میں دوسروں کی محرومی کا ذکر بھی شکر کو بڑھاتا ہے، تکبر کو نہیں۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- کھانے اور پینے پر اللہ کا شکر ادا کرنا چاہیے۔
- رہنے کی جگہ اور کفایت بھی اللہ کی نعمت ہے۔
- بستر پر جاتے وقت نعمتوں کو یاد کرنا اچھا عمل ہے۔
- دوسروں کی کمی دیکھ کر شکر بڑھانا چاہیے۔
