صحیح مسلم حدیث ۶۸۹۵ - اپنے عمل کے شر سے پناہ
اپنے عمل کے شر سے پناہ مانگنے کی دعا
صحیح مسلم : ۶۸۹۵
صحیح مسلمحدیث نمبر ۶۸۹۵
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ وَاللَّفْظُ لِيَحْيَى ، قَالَا : أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ هِلَالٍ ، عَنْ فَرْوَةَ بْنِ نَوْفَلٍ الْأَشْجَعِيِّ ، قَالَ : سَأَلْتُ عَائِشَةَ عَمَّا كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدْعُو بِهِ اللَّهَ ؟ قَالَتْ : كَانَ يَقُولُ : " اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّ مَا عَمِلْتُ وَمِنْ شَرِّ مَا لَمْ أَعْمَلْ " .
فروہ بن نوفل اشجعی روایت:
میں نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کیا دعا کرتے تھے اللہ سے؟ انہوں نے کہا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے: ” «اللَّهُمَّ إِنِّى أَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّ مَا عَمِلْتُ وَمِنْ شَرِّ مَا لَمْ أَعْمَلْ» یا اللہ! میں تیری پناہ مانگتا ہوں برائی سے اس کام کی جو میں نے کیا اور جو میں نے نہیں کیا۔“
صحیح مسلم حدیث ۶۸۹۵ کا خلاصہ
اس حدیث میں فروہ بن نوفل رحمہ اللہ نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ سے کیا دعا کرتے تھے؟ انہوں نے بتایا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم یہ دعا کرتے: اے اللہ! میں تیری پناہ مانگتا ہوں اس کام کے شر سے جو میں نے کیا، اور اس کام کے شر سے جو میں نے نہیں کیا۔ یہ دعا بہت مختصر ہے، مگر انسان کو اپنے اعمال کے بارے میں محتاط بناتی ہے۔ بندہ صرف گزرے ہوئے کاموں کے نقصان سے نہیں ڈرتا، بلکہ آنے والے یا نہ کیے گئے کاموں کے شر سے بھی اللہ کی پناہ مانگتا ہے۔ یہاں ہمیں یہی کہنا چاہیے جو حدیث میں ہے: نبی صلى الله عليه وسلم اللہ سے پناہ مانگتے تھے۔ اس دعا سے عاجزی، احتیاط اور اللہ پر اعتماد سیکھنے کو ملتا ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- اپنے کیے ہوئے عمل کے شر سے اللہ کی پناہ مانگنی چاہیے۔
- جو عمل ابھی نہیں ہوا، اس کے شر سے بھی دعا کی گئی ہے۔
- دعا میں بندے کی عاجزی ظاہر ہوتی ہے۔
- مختصر دعائیں بھی بہت جامع ہو سکتی ہیں۔
