صحیح مسلم حدیث ۶۸۹۶ - شر اعمال سے حفاظت

شر اعمال سے حفاظت کی دعا اور بندے کی عاجزی

صحیح مسلمحدیث نمبر ۶۸۹۶

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَأَبُو كُرَيْبٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِدْرِيسَ ، عَنْ حُصَيْنٍ ، عَنْ هِلَالٍ ، عَنْ فَرْوَةَ بْنِ نَوْفَلٍ ، قَالَ : سَأَلْتُ عَائِشَةَ عَنْ دُعَاءٍ كَانَ يَدْعُو بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَتْ : كَانَ يَقُولُ : " اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّ مَا عَمِلْتُ وَشَرِّ مَا لَمْ أَعْمَلْ " ،

‏‏‏‏ ترجمہ وہی ہے جو اوپر گزرا۔

صحیح مسلم حدیث ۶۸۹۶ کا خلاصہ

یہ روایت بھی اسی دعا کو بیان کرتی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کہتے تھے: اے اللہ! میں تیری پناہ مانگتا ہوں اس عمل کے شر سے جو میں نے کیا اور اس عمل کے شر سے جو میں نے نہیں کیا۔ اس دعا میں انسان اپنے ماضی اور آنے والے وقت دونوں کے بارے میں اللہ کا محتاج بنتا ہے۔ کبھی انسان کوئی کام کرتا ہے اور اس کا برا اثر سامنے آتا ہے، کبھی کسی نہ کیے ہوئے کام، کوتاہی یا آنے والے خطرے سے ڈر ہوتا ہے۔ حدیث کے الفاظ ہمیں سکھاتے ہیں کہ حفاظت صرف اپنی سمجھ سے نہیں ملتی؛ اللہ سے پناہ مانگنی ہوتی ہے۔ یہ دعا عام فہم ہے، آسان ہے، اور روزمرہ زندگی میں دل کو محتاط رکھتی ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • ماضی کے اعمال کے شر سے اللہ کی پناہ مانگنی چاہیے۔
  • آنے والے معاملات کے شر سے بھی اللہ کی پناہ مانگی گئی ہے۔
  • دعا بندے کو اپنی کمزوری یاد دلاتی ہے۔
  • نبی صلى الله عليه وسلم کی دعائیں سادہ مگر بہت معنی خیز ہیں۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں