صحیح مسلم حدیث ۶۸۹۷ - کیے اور نہ کیے کام کے شر سے پناہ
کیے اور نہ کیے کام کے شر سے پناہ کی دعا
صحیح مسلم : ۶۸۹۷
صحیح مسلمحدیث نمبر ۶۸۹۷
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَابْنُ بَشَّارٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ . ح وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ جَبَلَةَ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ يَعْنِي ابْنَ جَعْفَرٍ كِلَاهُمَا ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ حُصَيْنٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ ، غَيْرَ أَنَّ فِي حَدِيثِ مُحَمَّدِ بْنِ جَعْفَرٍ : وَمِنْ شَرِّ مَا لَمْ أَعْمَلْ .
ترجمہ وہی ہے جو اوپر گزرا۔
صحیح مسلم حدیث ۶۸۹۷ کا خلاصہ
اس روایت میں بھی وہی دعا آئی ہے، البتہ ایک سند میں «وَمِنْ شَرِّ مَا لَمْ أَعْمَلْ» کے الفاظ کا ذکر ہے۔ مطلب یہ ہے کہ بندہ اللہ سے کہتا ہے: اے اللہ! میں تیری پناہ مانگتا ہوں اس کے شر سے جو میں نے کیا، اور اس کے شر سے جو میں نے نہیں کیا۔ یہ دعا ہمیں اپنے عمل کے بارے میں سنجیدہ بناتی ہے۔ انسان ہر وقت اپنے فیصلوں، باتوں اور کاموں کے نتیجوں کو پوری طرح نہیں جانتا۔ اس لیے وہ اللہ سے مدد مانگتا ہے کہ جو غلطی ہو چکی ہے، اس کے شر سے بچا لے، اور جو کچھ آگے ہو سکتا ہے، اس کے شر سے بھی حفاظت فرما۔ یہ الفاظ روزمرہ زندگی کے لیے بہت مناسب دعا ہیں۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- دعا میں کیے ہوئے کام کے شر سے پناہ ہے۔
- دعا میں نہ کیے ہوئے کام کے شر سے بھی پناہ ہے۔
- حدیث کے الفاظ کو روایت کے مطابق بیان کرنا چاہیے۔
- اپنے فیصلوں کے انجام کے لیے اللہ سے مدد مانگنی چاہیے۔
