صحیح مسلم حدیث ۶۸۹۸ - ہر عمل کے شر سے اللہ کی پناہ

ہر عمل کے شر سے اللہ کی پناہ: نبی صلى الله عليه وسلم کی جامع دعا

صحیح مسلمحدیث نمبر ۶۸۹۸

وحَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ هَاشِمٍ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ الْأَوْزَاعِيِّ ، عَنْ عَبْدَةَ بْنِ أَبِي لُبَابَةَ ، عَنْ هِلَالِ بْنِ يَسَافٍ ، عَنْ فَرْوَةَ بْنِ نَوْفَلٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقُولُ فِي دُعَائِهِ : " اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّ مَا عَمِلْتُ وَشَرِّ مَا لَمْ أَعْمَلْ " .

‏‏‏‏ ترجمہ وہی ہے جو اوپر گزرا ہے۔

صحیح مسلم حدیث ۶۸۹۸ کا خلاصہ

یہ روایت بھی سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی اسی دعا کو بیان کرتی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنی دعا میں فرماتے تھے: اے اللہ! میں تیری پناہ مانگتا ہوں اس عمل کے شر سے جو میں نے کیا، اور اس عمل کے شر سے جو میں نے نہیں کیا۔ اس دعا میں بندہ اپنے پورے معاملے کو اللہ کے سامنے رکھتا ہے۔ جو ہو چکا، اس میں بھی اللہ کی پناہ چاہیے؛ جو ابھی نہیں ہوا، اس میں بھی اللہ کی حفاظت چاہیے۔ یہ جملہ انسان کو بے فکر نہیں بلکہ محتاط بناتا ہے۔ اسے یاد رہتا ہے کہ عمل کا اثر بھی اللہ کے علم میں ہے اور آنے والا وقت بھی اللہ کے قبضے میں ہے۔ اس لیے روزانہ کی دعا میں ایسے الفاظ شامل کرنا دل کو نرم اور محتاط رکھتا ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • نبی صلى الله عليه وسلم اپنی دعاؤں میں اللہ سے پناہ مانگتے تھے۔
  • عمل کے اچھے یا برے اثرات سے متعلق بندہ اللہ کا محتاج ہے۔
  • آنے والے شر سے بچاؤ کے لیے دعا کرنی چاہیے۔
  • دعا انسان کو احتیاط اور عاجزی سکھاتی ہے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں