صحیح مسلم حدیث ۶۸۹۹ - توکل اور گمراہی سے پناہ
توکل اور گمراہی سے پناہ کی جامع دعا
صحیح مسلم : ۶۸۹۹
صحیح مسلمحدیث نمبر ۶۸۹۹
حَدَّثَنِي حَجَّاجُ بْنُ الشَّاعِرِ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو أَبُو مَعْمَرٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ ، حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ ، حَدَّثَنِي ابْنُ بُرَيْدَةَ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ يَعْمَرَ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ ، يَقُولُ : " اللَّهُمَّ لَكَ أَسْلَمْتُ وَبِكَ آمَنْتُ ، وَعَلَيْكَ تَوَكَّلْتُ وَإِلَيْكَ أَنَبْتُ وَبِكَ خَاصَمْتُ ، اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِعِزَّتِكَ لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ أَنْ تُضِلَّنِي ، أَنْتَ الْحَيُّ الَّذِي لَا يَمُوتُ وَالْجِنُّ وَالْإِنْسُ يَمُوتُونَ " .
ابن عباس روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے: ” «اللَّهُمَّ لَكَ أَسْلَمْتُ وَبِكَ آمَنْتُ وَعَلَيْكَ تَوَكَّلْتُ وَإِلَيْكَ أَنَبْتُ وَبِكَ خَاصَمْتُ اللَّهُمَّ إِنِّى أَعُوذُ بِعِزَّتِكَ لاَ إِلَهَ إِلاَّ أَنْتَ أَنْ تُضِلَّنِى أَنْتَ الْحَىُّ الَّذِى لاَ يَمُوتُ وَالْجِنُّ وَالإِنْسُ يَمُوتُونَ» یعنی اے پروردگار! میں تیرا فرمانبردار ہو گیا اور تجھ پر ایمان لایا اور تجھ پر بھروسا کیا اور تیری طرف رجوع کیا اور تیری مدد سے دشمنوں سے لڑا۔ اے مالک میرے! میں تیری عزت کی پناہ مانگتا ہوں کوئی برحق معبود نہیں سوائے تیرے، اس بات سے کہ تو بھٹکا دے مجھ کو، تو وہ زندہ ہے جو کبھی نہیں مرتا، جن اور آدمی مرتے ہیں۔“
صحیح مسلم حدیث ۶۸۹۹ کا خلاصہ
اس حدیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک جامع دعا بیان ہوئی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے: اے اللہ! میں تیرے لیے فرمانبردار ہوا، تجھ پر ایمان لایا، تجھ پر بھروسا کیا، تیری طرف رجوع کیا اور تیری مدد سے مقابلہ کیا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کی عزت کے واسطے گمراہی سے پناہ مانگتے، اور اقرار کرتے کہ تیرے سوا کوئی معبود برحق نہیں۔ دعا کے آخر میں اللہ کو وہ زندہ کہا گیا جو کبھی نہیں مرتا، جبکہ جن اور انسان مر جاتے ہیں۔ اس دعا کا اصل سبق توکل، ایمان اور ہدایت کی حفاظت ہے۔ بندہ سمجھتا ہے کہ میرا سہارا کسی مخلوق کی زندگی نہیں، بلکہ وہ اللہ ہے جو ہمیشہ زندہ ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- ایمان اور توکل کو دعا میں زبان سے بیان کیا گیا ہے۔
- گمراہی سے اللہ کی پناہ مانگنی چاہیے۔
- اللہ ہمیشہ زندہ ہے، مخلوق کو موت آتی ہے۔
- رجوع اور بھروسہ اللہ ہی پر ہونا چاہیے۔
