صحیح مسلم حدیث ۶۹۰۰ - سفر کی صبح کی دعا

سفر کی صبح کی دعا: اللہ کی حمد، ساتھ اور فضل

صحیح مسلمحدیث نمبر ۶۹۰۰

حَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا كَانَ فِي سَفَرٍ وَأَسْحَرَ ، يَقُولُ : " سَمِعَ سَامِعٌ بِحَمْدِ اللَّهِ ، وَحُسْنِ بَلَائِهِ عَلَيْنَا رَبَّنَا صَاحِبْنَا ، وَأَفْضِلْ عَلَيْنَا عَائِذًا بِاللَّهِ مِنَ النَّارِ " .

ابوہریرہ روایت:

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب سفر میں ہوتے اور صبح ہوتی تو فرماتے: ” «سَمَّعَ سَامِعٌ بِحَمْدِ اللَّهِ وَحُسْنِ بَلاَئِهِ عَلَيْنَا رَبَّنَا صَاحِبْنَا وَأَفْضِلْ عَلَيْنَا عَائِذًا بِاللَّهِ مِنَ النَّارِ» سن لیا سننے والے نے اللہ کی حمد اور اس کے حسن بلا کو اے رب ہمارے! ساتھ رہ ہمارے (یعنی مدد سے) اور فضل کر ہم پر، پناہ مانگتا ہوں میں تیری جہنم سے۔“

صحیح مسلم حدیث ۶۹۰۰ کا خلاصہ

اس حدیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا سفر میں صبح کے وقت پڑھا جانے والا ذکر بیان ہوا ہے۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم سفر میں ہوتے اور صبح کا وقت ہوتا تو فرماتے: سننے والے نے اللہ کی حمد اور اس کے اچھے احسان کو سن لیا۔ اے ہمارے رب! ہمارے ساتھ رہ، ہم پر فضل فرما، میں اللہ کی پناہ مانگتا ہوں آگ سے۔ اس سفر کی دعا میں تین صاف باتیں ہیں: اللہ کی حمد، سفر میں اللہ کی مدد اور جہنم سے پناہ۔ مسافر راستے میں گھر سے دور ہوتا ہے، حالات بدلتے ہیں، تھکن اور خطرہ بھی ہو سکتا ہے؛ اس لیے وہ اللہ سے ساتھ اور فضل مانگتا ہے۔ حدیث کا پیغام یہی ہے کہ سفر میں بھی صبح اللہ کی یاد، حمد اور دعا سے شروع کی جائے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • سفر میں صبح کے وقت اللہ کی حمد کرنی چاہیے۔
  • مسافر اللہ سے ساتھ اور مدد مانگے۔
  • ہر حال میں اللہ کی آگ سے پناہ مانگنی چاہیے۔
  • سفر بھی ذکر اور دعا کا موقع ہے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں