صحیح مسلم حدیث ۶۹۵ - مذی کا وضو
مذی نکلنے پر وضو اور شرمگاہ دھونے کا حکم
صحیح مسلم : ۶۹۵
صحیح مسلمحدیث نمبر ۶۹۵
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، وَأَبُو مُعَاوِيَةَ ، وَهُشَيْمٌ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ مُنْذِرِ بْنِ يَعْلَى وَيُكْنَى أَبَا يَعْلَى ، عَنِ ابْنِ الْحَنَفِيَّةِ ، عَنْ عَلِيٍّ ، قَالَ : كُنْتُ رَجُلًا مَذَّاءً ، وَكُنْتُ أَسْتَحْيِي أَنْ أَسْأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِمَكَانِ ابْنَتِهِ ، فَأَمَرْتُ الْمِقْدَادَ بْنَ الأَسْوَدِ فَسَأَلَهُ ، فَقَالَ : " يَغْسِلُ ذَكَرَهُ ، وَيَتَوَضَّأُ " .
علی روایت:
میری مذی بہت نکلا کرتی تھی۔ میں نے شرم کی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھنے میں کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی صاحبزادی میرے نکاح میں تھیں۔ میں نے سیدنا مقداد بن اسود رضی اللہ عنہ سے کہا: انہوں نے پوچھا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اپنے ذکر کو دھو ڈالے اور وضو کرے۔“
صحیح مسلم حدیث ۶۹۵ کا خلاصہ
یہ حدیث مذی کے حکم کو صاف اور مختصر انداز میں بیان کرتی ہے۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ انہیں مذی زیادہ آتی تھی۔ چونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صاحبزادی ان کے نکاح میں تھیں، اس لیے انہوں نے شرم کی وجہ سے خود سوال نہیں کیا۔ انہوں نے سیدنا مقداد بن اسود رضی اللہ عنہ سے کہا، تو انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ وہ اپنے ذکر کو دھو ڈالے اور وضو کرے۔ اس سے مذی نکلنے کا حکم معلوم ہوتا ہے کہ غسل کا ذکر نہیں آیا، بلکہ شرمگاہ دھونا اور وضو کرنا آیا ہے۔ یہ حدیث مذی کیا ہے، مذی سے وضو، اور مذی کے بعد غسل یا وضو جیسے عام سوالات کے لیے بنیادی رہنمائی دیتی ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- مذی کے مسئلے میں شرم کے باوجود صحیح حکم معلوم کیا گیا۔
- نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے شرمگاہ دھونے اور وضو کا حکم دیا۔
- اس روایت میں غسل کا حکم بیان نہیں ہوا۔
- دینی مسئلہ پوچھنے کے لیے مناسب طریقہ اختیار کیا جا سکتا ہے۔
