صحیح مسلم حدیث ۶۹۶ - مذی کا وضو
مذی نکلنے سے وضو لازم آتا ہے
صحیح مسلم : ۶۹۶
صحیح مسلمحدیث نمبر ۶۹۶
وحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَبِيبٍ الْحَارِثِيُّ ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ يَعْنِي ابْنَ الْحَارِثِ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، أَخْبَرَنِي سُلَيْمَانُ ، قَالَ : سَمِعْتُ مُنْذِرًا ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ ، عَنْ عَلِيٍّ ، أَنَّهُ قَالَ : اسْتَحْيَيْتُ أَنْ أَسْأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْمَذْيِ ، مِنْ أَجْلِ فَاطِمَةَ ، فَأَمَرْتُ الْمِقْدَادَ ، فَسَأَلَهُ ، فَقَالَ : " مِنْهُ الْوُضُوءُ " .
علی روایت:
مجھے شرم آئی مذی کا مسئلہ پوچھتے ہوئے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بوجہ سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کے۔ میں نے سیدنا مقداد رضی اللہ عنہ سے کہا: انہوں نے پوچھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مذی نکلنے سے وضو لازم آتا ہے“ (غسل ضروری نہیں)۔
صحیح مسلم حدیث ۶۹۶ کا خلاصہ
اس حدیث میں سیدنا علی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ انہیں مذی کا مسئلہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے خود پوچھتے ہوئے شرم آئی، کیونکہ سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی صاحبزادی تھیں۔ انہوں نے سیدنا مقداد رضی اللہ عنہ سے کہا، تو انہوں نے سوال کیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس سے وضو ہے۔ ترجمے میں بھی وضاحت آئی ہے کہ غسل ضروری نہیں۔ اس روایت کا مرکزی مضمون مذی سے وضو ہے۔ یہ بات ان لوگوں کے لیے بہت فائدہ مند ہے جو مذی نکلنے کے بعد پریشان ہو جاتے ہیں کہ غسل لازم ہے یا نہیں۔ حدیث کے الفاظ میں یہاں وضو کا ذکر ہے، اس لیے حکم کو اسی طرح بیان کیا گیا ہے: مذی نکلنے پر وضو کیا جائے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- مذی کا مسئلہ پوچھنے میں حیا کا خیال رکھا گیا۔
- نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مذی پر وضو کا حکم دیا۔
- ترجمے کے مطابق اس واقعے میں غسل ضروری نہیں بتایا گیا۔
- شرعی مسئلہ جاننے کے لیے کسی معتبر شخص سے سوال کروایا جا سکتا ہے۔
