صحیح مسلم حدیث ۶۹۷۱ - اللہ کی رحمت غالب رہے گی
اللہ کی رحمت: بندے کے لیے امید کا بڑا سبب
صحیح مسلم : ۶۹۷۱
صحیح مسلمحدیث نمبر ۶۹۷۱
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ ، أَخْبَرَنَا أَبُو ضَمْرَةَ ، عَنْ الْحَارِثِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ مِينَاءَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَمَّا قَضَى اللَّهُ الْخَلْقَ كَتَبَ فِي كِتَابِهِ عَلَى نَفْسِهِ ، فَهُوَ مَوْضُوعٌ عِنْدَهُ إِنَّ رَحْمَتِي تَغْلِبُ غَضَبِي " .
سیدنا ابوہریرہ روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب اللہ تعالیٰ مخلوقات کو بنا چکا تو اپنی کتاب میں لکھا اپنے اوپر، وہ کتاب اس کے پاس رکھی ہے کہ میری رحمت غالب ہو گی میرے غصہ پر۔“
صحیح مسلم حدیث ۶۹۷۱ کا خلاصہ
یہ اللہ کی رحمت کی حدیث اسی عظیم مضمون کو بیان کرتی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے مخلوق بنانے کے بعد اپنی کتاب میں اپنے اوپر لکھا کہ میری رحمت میرے غصہ پر غالب ہو گی۔ حدیث میں یہ بھی آیا ہے کہ وہ کتاب اللہ کے پاس رکھی ہے۔ اس سے بندے کو اللہ کی رحمت کی وسعت کا اندازہ ہوتا ہے۔ انسان جب اپنی کمزوری، گناہ اور خطا کو دیکھتا ہے تو اسے اللہ کی طرف پلٹنا چاہیے۔ یہ حدیث امید دیتی ہے کہ اللہ کی رحمت بہت بڑی ہے۔ مگر حدیث کا مطلب یہ نہیں کہ بندہ گناہ پر ڈٹا رہے، بلکہ رحمت کا یقین اسے توبہ اور استغفار کی طرف لے جائے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- اللہ تعالیٰ کی رحمت اس کے غضب پر غالب ہے۔
- بندے کو گناہ کے بعد اللہ کی طرف رجوع کرنا چاہیے۔
- رحمت کی امید دل کو مایوسی سے بچاتی ہے۔
- یہ حدیث اللہ کے کرم کو یاد دلاتی ہے۔
