صحیح مسلم حدیث ۶۹۷۵ - قیامت کے لیے باقی رحمتیں
اللہ کی سو رحمتیں: ایک دنیا میں، باقی قیامت کے لیے
صحیح مسلم : ۶۹۷۵
صحیح مسلمحدیث نمبر ۶۹۷۵
حَدَّثَنِي الْحَكَمُ بْنُ مُوسَى ، حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ مُعَاذٍ ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ التَّيْمِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبُو عُثْمَانَ النَّهْدِيُّ ، عَنْ سَلْمَانَ الْفَارِسِيِّ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ لِلَّهِ مِائَةَ رَحْمَةٍ ، فَمِنْهَا رَحْمَةٌ بِهَا يَتَرَاحَمُ الْخَلْقُ بَيْنَهُمْ ، وَتِسْعَةٌ وَتِسْعُونَ لِيَوْمِ الْقِيَامَةِ " ،
سلمان فارسی روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ کی سو رحمتیں ہیں تو ایک رحمت کی وجہ سے خلق اللہ آپس میں رحم کرتے ہیں اور باقی رحمتیں قیامت کے لیے ہیں۔“
صحیح مسلم حدیث ۶۹۷۵ کا خلاصہ
یہ حدیث اللہ کی رحمت کو بہت سادہ انداز میں بیان کرتی ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کی سو رحمتیں ہیں۔ ایک رحمت کی وجہ سے خلق اللہ آپس میں رحم کرتی ہے، اور باقی رحمتیں قیامت کے لیے ہیں۔ یہ بات انسان کو دنیا کے ہر اچھے رحم دل منظر کو اللہ کی عطا کے طور پر دیکھنا سکھاتی ہے۔ ماں کی محبت، لوگوں کا ایک دوسرے کے ساتھ نرم ہونا، اور مخلوق کا آپس میں رحم کرنا اسی ایک رحمت کے اثرات ہیں۔ حدیث میں قیامت کے لیے باقی رحمتوں کا ذکر بندے کے دل میں امید پیدا کرتا ہے، مگر ساتھ ہی اسے اللہ کی طرف رجوع بھی کرنا چاہیے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- دنیا میں مخلوق کی رحمت اللہ کی دی ہوئی ایک رحمت سے ہے۔
- اللہ تعالیٰ نے قیامت کے لیے بھی رحمتیں رکھی ہیں۔
- رحم دلی کو اللہ کی نعمت سمجھنا چاہیے۔
- اللہ کی رحمت بندے کو امید اور رجوع دونوں سکھاتی ہے۔
