صحیح مسلم حدیث ۷۰۵۱ - کہاں ہیں جبار اور متکبر؟
کہاں ہیں جبار اور متکبر؟ قیامت کی یاد دلانے والی حدیث
صحیح مسلم : ۷۰۵۱
صحیح مسلمحدیث نمبر ۷۰۵۱
وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، عَنْ عُمَرَ بْنِ حَمْزَةَ ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، أَخْبَرَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " يَطْوِي اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ السَّمَاوَاتِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ، ثُمَّ يَأْخُذُهُنَّ بِيَدِهِ الْيُمْنَى ، ثُمَّ يَقُولُ : أَنَا الْمَلِكُ أَيْنَ الْجَبَّارُونَ أَيْنَ الْمُتَكَبِّرُونَ ، ثُمَّ يَطْوِي الْأَرَضِينَ بِشِمَالِهِ ، ثُمَّ يَقُولُ : أَنَا الْمَلِكُ أَيْنَ الْجَبَّارُونَ أَيْنَ الْمُتَكَبِّرُونَ " .
عبداللہ بن عمر روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ قیامت کے دن آسمانوں کو لپیٹ لے گا اور ان کو داہنے ہاتھ میں لے لے گا، پھر فرمائے گا میں بادشاہ ہوں، کہاں ہیں زور والے؟ کہاں ہیں غرور کرنے والے؟ پھر بائیں ہاتھ سے زمین کو لپیٹ لے گا (جو داہنے کے مثل ہے اور اسی واسطے دوسری حدیث میں ہے کہ پروردگار کے دونوں ہاتھ داہنے ہیں) پھر فرمائے گا: میں بادشاہ ہوں۔ کہاں ہیں زور والے؟ کہاں ہیں بڑائی کرنے والے؟ .“
صحیح مسلم حدیث ۷۰۵۱ کا خلاصہ
اس حدیث کا اصل موضوع تکبر کا انجام اور اللہ کی عظمت ہے۔ نبی صلى الله عليه وسلم نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ قیامت کے دن آسمانوں کو لپیٹے گا، پھر فرمائے گا: میں بادشاہ ہوں، کہاں ہیں جبار؟ کہاں ہیں متکبر؟ پھر زمینوں کے بارے میں بھی ایسا ہی ذکر آیا۔ حدیث کا پیغام بہت واضح ہے: جو لوگ دنیا میں طاقت، زور اور بڑائی پر فخر کرتے ہیں، وہ اللہ کے سامنے کچھ اختیار نہیں رکھتے۔ یہ حدیث اللہ کی بادشاہی، قیامت کا منظر، اور غرور سے بچنے کی نصیحت دیتی ہے۔ اسے پڑھ کر انسان کو اپنے لہجے، فیصلوں اور رویے کا جائزہ لینا چاہیے۔ متن میں اصل توجہ اللہ کی قدرت اور متکبرین کی بےبسی پر ہے؛ اس سے آگے غیر ضروری بحثیں چھیڑنا مقصد نہیں۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- تکبر انسان کو اللہ کے سامنے رسوا کر سکتا ہے۔
- دنیا کی طاقت قیامت کے دن باقی نہیں رہے گی۔
- اللہ تعالیٰ ہی حقیقی بادشاہ ہے۔
- حدیث انسان کو نرم مزاجی اور عاجزی کی طرف بلاتی ہے۔
