صحیح مسلم حدیث ۷۰۵۰ - کہاں ہیں زمین کے بادشاہ؟
کہاں ہیں زمین کے بادشاہ؟ اللہ کی بادشاہی کی حدیث
صحیح مسلم : ۷۰۵۰
صحیح مسلمحدیث نمبر ۷۰۵۰
حَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، حَدَّثَنِي ابْنُ الْمُسَيَّبِ ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ ، كَانَ يَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " يَقْبِضُ اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى الْأَرْضَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ، وَيَطْوِي السَّمَاءَ بِيَمِينِهِ ، ثُمَّ يَقُولُ : أَنَا الْمَلِكُ أَيْنَ مُلُوكُ الْأَرْضِ " .
ابوہریرہ روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”: ”اللہ تعالیٰ قیامت کے دن زمین کو مٹھی میں لے لے گا اور آسمانوں کو داہنے ہاتھ میں لپیٹ لے گا پھر فرمائے گا: ”میں بادشاہ ہوں، کہاں ہیں زمین کے بادشاہ؟“
صحیح مسلم حدیث ۷۰۵۰ کا خلاصہ
اس حدیث کا مرکزی موضوع توحید اور اللہ تعالیٰ کی بادشاہی ہے۔ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے فرمایا کہ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ زمین کو مٹھی میں لے گا اور آسمانوں کو اپنے داہنے ہاتھ میں لپیٹ لے گا، پھر فرمائے گا: میں بادشاہ ہوں، کہاں ہیں زمین کے بادشاہ؟ یہ جملہ انسان کے غرور کو بہت مضبوط انداز میں توڑتا ہے۔ دنیا میں حکومت، عہدہ، قوت اور اختیار انسان کو بڑا دکھاتے ہیں، مگر قیامت کے دن سب عارضی ثابت ہوں گے۔ اصل بادشاہی اللہ کی ہے۔ اس حدیث میں قیامت کا منظر، اللہ کی قدرت، اور دنیا کے بادشاہوں کی بےبسی صاف بیان ہے۔ عام فہم پیغام یہ ہے کہ انسان اپنے مقام کو اللہ کے سامنے معمولی سمجھے، تکبر نہ کرے، اور آخرت کے دن کو یاد رکھے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- دنیا کی بادشاہی عارضی ہے، اصل بادشاہی اللہ کی ہے۔
- قیامت کے دن انسان کا اختیار ختم ہو جائے گا۔
- تکبر اور طاقت کا غرور آخرت میں کام نہیں آئے گا۔
- اللہ کی قدرت کو ماننا توحید کا اہم حصہ ہے۔
