صحیح مسلم حدیث ۷۰۶۱ - انسان کا علم بہت تھوڑا ہے
علم کی حقیقت: انسان کو بہت کم علم دیا گیا ہے
صحیح مسلم : ۷۰۶۱
صحیح مسلمحدیث نمبر ۷۰۶۱
حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ الْأَشَجُّ ، قَالَ : سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ إِدْرِيسَ ، يَقُولُ : سَمِعْتُ الْأَعْمَشَ يَرْوِيهِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُرَّةَ ، عَنْ مَسْرُوقٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي نَخْلٍ يَتَوَكَّأُ عَلَى عَسِيبٍ ، ثُمَّ ذَكَرَ نَحْوَ حَدِيثِهِمْ ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، وَقَالَ فِي رِوَايَتِهِ : وَمَا أُوتِيتُمْ مِنَ الْعِلْمِ إِلَّا قَلِيلًا .
ترجمہ وہی ہے جو اوپر گزرا۔
صحیح مسلم حدیث ۷۰۶۱ کا خلاصہ
اس حدیث میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک مختصر منظر آتا ہے کہ آپ کھجوروں میں ایک شاخ کا سہارا لیے ہوئے تھے، پھر روایت میں یہ بات آئی: «وما أوتيتم من العلم إلا قليلا» یعنی تمہیں علم میں سے تھوڑا ہی دیا گیا ہے۔ اس سے ایک سادہ مگر بہت بڑی بات سمجھ آتی ہے کہ انسان کا علم محدود ہے۔ جو کچھ ہمیں معلوم ہے، وہ اللہ کے علم کے مقابلے میں بہت کم ہے۔ اسی لیے علم کی حدیث، کم علم کی حدیث، اور علم میں عاجزی جیسے الفاظ اس روایت کے اصل پیغام سے جڑتے ہیں۔ بندے کو چاہیے کہ اپنی سمجھ پر غرور نہ کرے، دین کی بات میں احتیاط کرے، اور جس بات کا علم نہ ہو وہاں رک جائے۔ یہ حدیث ہمیں علمی عاجزی، محتاط گفتگو اور اللہ کے علم کے سامنے اپنی کمی کو ماننے کا سبق دیتی ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- انسان کا علم اللہ کے علم کے مقابلے میں بہت کم ہے۔
- دینی بات میں اپنی حد پہچاننا ضروری ہے۔
- علم ملنے پر غرور کے بجائے عاجزی بہتر ہے۔
- جس بات کا علم نہ ہو اس میں احتیاط کرنی چاہیے۔
