صحیح مسلم حدیث ۷۰۷۰ - دنیا کی مصیبتیں بطور چھوٹا عذاب
عذاب ادنیٰ: دنیا کی مصیبتوں سے سبق
صحیح مسلم : ۷۰۷۰
صحیح مسلمحدیث نمبر ۷۰۷۰
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَمُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ . ح وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَاللَّفْظُ لَهُ ، حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ عَزْرَةَ ، عَنْ الْحَسَنِ الْعُرَنِيِّ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ الْجَزَّارِ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى ، عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ فِي قَوْلِهِ عَزَّ وَجَلَّ : " وَلَنُذِيقَنَّهُمْ مِنَ الْعَذَابِ الأَدْنَى دُونَ الْعَذَابِ الأَكْبَرِ سورة السجدة آية 21 ، قَالَ وَالرُّومُ وَالْبَطْشَةُ أَوِ الدُّخَانُ شُعْبَةُ الشَّاكُّ ، فِي الْبَطْشَةِ أَوِ الدُّخَانِ .
ابی بن کعب روایت:
یہ جو اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ”ہم ان کو چھوٹا عذاب دیں گے .“ اس سے مراد دنیا کی مصیبتیں ہیں، روم، بطشہ، دخان اور شعبہ کو شک ہے بطشہ کہا یا دخان۔
صحیح مسلم حدیث ۷۰۷۰ کا خلاصہ
اس حدیث میں سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے آیت «ولنذيقنهم من العذاب الأدنى» کے بارے میں بات نقل ہوئی۔ انہوں نے اس چھوٹے عذاب کو دنیا کی مصیبتیں بتایا، پھر روم، بطشہ، یا دخان کا ذکر آیا، اور روایت میں شعبہ کے شک کی بھی وضاحت ہے کہ انہوں نے بطشہ کہا یا دخان۔ اس روایت کا انداز ہمیں علمی امانت بھی سکھاتا ہے؛ راوی نے جہاں شک تھا، وہاں اسے چھپایا نہیں۔ عذاب ادنیٰ کی حدیث، دنیا کی مصیبتیں، روم اور دخان جیسے الفاظ اس مضمون سے جڑے ہیں۔ متن سے اتنی بات صاف ہے کہ دنیا کی بعض سختیاں بندوں کے لیے تنبیہ ہو سکتی ہیں۔ اس سے آگے کوئی قطعی دعویٰ اس خاص روایت سے نہیں کرنا چاہیے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- دنیا کی مصیبتوں کو اس روایت میں عذاب ادنیٰ سے جوڑا گیا ہے۔
- راوی نے اپنے شک کو صاف بیان کیا، یہ علمی امانت ہے۔
- قرآنی آیت کی تفسیر صحابہ کے علم سے سمجھی جاتی ہے۔
- مصیبت کو نصیحت کا سبب سمجھ کر اللہ کی طرف رجوع کرنا چاہیے۔
