صحیح مسلم حدیث ۷۰۷۱ - چاند کا دو ٹکڑے ہونا
انشقاق قمر: چاند پھٹا اور نبی صلى الله عليه وسلم نے فرمایا گواہ رہو
صحیح مسلم : ۷۰۷۱
صحیح مسلمحدیث نمبر ۷۰۷۱
مَصَائِبُ الدُّنْيَا حَدَّثَنَا عَمْرٌو النَّاقِدُ ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنْ أَبِي مَعْمَرٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : " انْشَقَّ الْقَمَرُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِشِقَّتَيْنِ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : اشْهَدُوا " .
عبداللہ بن مسعود روایت:
چاند پھٹا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں دو ٹکڑے ہو گیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”گواہ رہو۔“
صحیح مسلم حدیث ۷۰۷۱ کا خلاصہ
یہ حدیث انشقاق قمر کے واقعے کو بہت سادہ الفاظ میں بیان کرتی ہے۔ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں چاند دو ٹکڑے ہو گیا۔ اس پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: گواہ رہو۔ اس روایت کا اصل پیغام یہی ہے کہ یہ واقعہ صحابی کی گواہی سے بیان ہوا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو اسے دیکھنے اور گواہ بننے کی طرف متوجہ کیا۔ چاند پھٹنے کی حدیث، انشقاق قمر، اور معجزہ شق القمر جیسے الفاظ اسی موضوع کے مشہور سرچ ٹرمز ہیں۔ متن میں جو بات آئی ہے، اسی پر رکنا بہتر ہے: واقعہ ہوا، دو ٹکڑے ہوئے، اور گواہی کا حکم دیا گیا۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- چاند کے دو ٹکڑے ہونے کا واقعہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں بیان ہوا۔
- نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حاضر لوگوں کو گواہ رہنے کا فرمایا۔
- حدیث کے متن میں واقعہ مختصر مگر واضح ہے۔
- معجزات کے بیان میں روایت کے الفاظ کی پابندی ضروری ہے۔
