صحیح مسلم حدیث ۷۰۷۲ - منیٰ میں انشقاق قمر کا مشاہدہ
منیٰ میں چاند کے دو ٹکڑے: اشہدوا کا پیغام
صحیح مسلم : ۷۰۷۲
صحیح مسلمحدیث نمبر ۷۰۷۲
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَأَبُو كُرَيْبٍ ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ جَمِيعًا ، عَنْ أَبِي مُعَاوِيَةَ . ح وحَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ حَفْصِ بْنِ غِيَاثٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي كِلَاهُمَا ، عَنْ الْأَعْمَشِ . ح وحَدَّثَنَا مِنْجَابُ بْنُ الْحَارِثِ التَّمِيمِيُّ وَاللَّفْظُ لَهُ أَخْبَرَنَا ابْنُ مُسْهِرٍ ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ أَبِي مَعْمَرٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ ، قَالَ : " بَيْنَمَا نَحْنُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِنًى إِذَا انْفَلَقَ الْقَمَرُ فِلْقَتَيْنِ ، فَكَانَتْ فِلْقَةٌ وَرَاءَ الْجَبَلِ وَفِلْقَةٌ دُونَهُ فَقَالَ لَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : اشْهَدُوا " .
عبداللہ بن مسعود روایت:
ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے منیٰ میں کہ چاند پھٹ کر دو ٹکڑے ہو گیا۔ ایک ٹکڑا تو پہاڑ کے اس طرف رہا اور ایک اس طرف چلا گیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”گواہ رہو۔“
صحیح مسلم حدیث ۷۰۷۲ کا خلاصہ
اس حدیث میں انشقاق قمر کی تفصیل کچھ زیادہ واضح ہے۔ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ منیٰ میں تھے۔ اچانک چاند دو ٹکڑے ہو گیا؛ ایک ٹکڑا پہاڑ کے اس طرف اور دوسرا دوسری طرف دکھائی دیا۔ پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: گواہ رہو۔ اس روایت میں جگہ، مشاہدہ اور گواہی تینوں باتیں موجود ہیں۔ انشقاق قمر منیٰ، چاند دو ٹکڑے حدیث، اور اشہدوا حدیث جیسے الفاظ اس حدیث کو تلاش کرنے میں عام استعمال ہوتے ہیں۔ اس متن سے ہمیں یہ بات ملتی ہے کہ صحابہ نے واقعہ دیکھا، اسے بیان کیا، اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے گواہی کو اہم بنایا۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- واقعہ منیٰ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی موجودگی میں بیان ہوا۔
- چاند کے دو حصوں کا ذکر پہاڑ کے حوالے سے آیا ہے۔
- گواہ رہو کا فرمان واقعے کی سنجیدگی دکھاتا ہے۔
- صحابی نے اپنی دیکھی ہوئی بات کو روایت کیا۔
