صحیح مسلم حدیث ۷۰۷۳ - چاند کے دو حصوں کی گواہی
اللهم اشهد: چاند کے دو ٹکڑے ہونے کی روایت
صحیح مسلم : ۷۰۷۳
صحیح مسلمحدیث نمبر ۷۰۷۳
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ الْعَنْبَرِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ أَبِي مَعْمَرٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ ، قَالَ : " انْشَقَّ الْقَمَرُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِلْقَتَيْنِ ، فَسَتَرَ الْجَبَلُ فِلْقَةً ، وَكَانَتْ فِلْقَةٌ فَوْقَ الْجَبَلِ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " اللَّهُمَّ اشْهَدْ " ،
ترجمہ وہی جو اوپر گزرا۔ اس میں یہ ہے کہ ایک ٹکڑے نے پہاڑ کو ڈھانک لیا اور ایک ٹکڑا پہاڑ کے اوپر رہا۔
صحیح مسلم حدیث ۷۰۷۳ کا خلاصہ
یہ روایت انشقاق قمر کے اسی واقعے کو ایک اور لفظی انداز میں بیان کرتی ہے۔ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں چاند دو ٹکڑے ہوا۔ ایک ٹکڑے کو پہاڑ نے ڈھانک لیا، اور ایک ٹکڑا پہاڑ کے اوپر رہا۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے اللہ! گواہ رہ۔ اس حدیث میں خاص لفظ «اللهم اشهد» آیا ہے، جو گواہی کے مضمون کو اور نمایاں کر دیتا ہے۔ چاند پھٹنے کی حدیث، اللهم اشهد، اور انشقاق قمر کی روایت جیسے سرچ الفاظ اس متن سے جڑتے ہیں۔ ہمیں اس روایت میں واقعہ، دو حصوں کی حالت، اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی دعا نما گواہی کا ذکر ملتا ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- چاند کے دو ٹکڑوں کی کیفیت پہاڑ کے حوالے سے بیان ہوئی۔
- نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ کو گواہ ٹھہرایا۔
- متن میں واقعے کی تفصیل مختصر مگر خاص ہے۔
- روایت کے الفاظ کو بدل کر بڑھانا نہیں چاہیے۔
