صحیح مسلم حدیث ۷۰۷۵ - اشہدوا اشہدوا کا بیان
اشہدوا اشہدوا: انشقاق قمر کی واضح گواہی
صحیح مسلم : ۷۰۷۵
صحیح مسلمحدیث نمبر ۷۰۷۵
وحَدَّثَنِيهِ بِشْرُ بْنُ خَالِدٍ ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ . ح وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ كِلَاهُمَا ، عَنْ شُعْبَةَ بِإِسْنَادِ ابْنِ مُعَاذٍ ، عَنْ شُعْبَةَ نَحْوَ حَدِيثِهِ غَيْرَ أَنَّ فِي حَدِيثِ ابْنِ أَبِي عَدِيٍّ ، فَقَالَ : اشْهَدُوا اشْهَدُوا .
ترجمہ وہی ہے جو اوپر گزرا۔
صحیح مسلم حدیث ۷۰۷۵ کا خلاصہ
اس روایت میں چاند کے دو ٹکڑے ہونے کا وہی مضمون آیا ہے، مگر ایک لفظی اضافہ یہ ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اشہدوا، اشہدوا؛ یعنی گواہ رہو، گواہ رہو۔ یہ تکرار حاضر لوگوں کو متوجہ کرنے کے لیے کافی ہے۔ حدیث کا مقصد کوئی نئی بحث کھولنا نہیں، بلکہ اسی معجزے کی گواہی کو بیان کرنا ہے۔ چاند پھٹنے کی حدیث، اشہدوا اشہدوا، اور انشقاق قمر صحیح مسلم جیسے الفاظ اس روایت کے لیے اہم ہیں۔ متن کی حد میں رہ کر کہا جائے تو چاند کے دو ٹکڑے ہونے کا واقعہ بیان ہوا، اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو گواہ بننے کا فرمایا۔ یہی اس حدیث کی سادہ اور مضبوط تعلیم ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے گواہی کے الفاظ دہرائے۔
- یہ روایت اسی واقعے کے الفاظ کی ایک صورت بیان کرتی ہے۔
- معجزے کے بیان میں حاضر لوگوں کو گواہ بنایا گیا۔
- حدیث کو اس کے اپنے الفاظ کے ساتھ سمجھنا چاہیے۔
