صحیح مسلم حدیث ۷۱۰۳ - شیطان کی مایوسی اور فتنہ انگیزی

شیطان کا اصل ہدف: مسلمانوں میں فساد ڈالنا

صحیح مسلمحدیث نمبر ۷۱۰۳

حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ إِسْحَاقُ : أَخْبَرَنَا ، وقَالَ عُثْمَانُ : حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " إِنَّ الشَّيْطَانَ قَدْ أَيِسَ أَنْ يَعْبُدَهُ الْمُصَلُّونَ فِي جَزِيرَةِ الْعَرَبِ ، وَلَكِنْ فِي التَّحْرِيشِ بَيْنَهُمْ " ،

جابر روایت:

میں نے سنا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے: ”شیطان ناامید ہو گیا ہے اس بات سے کہ اس کو نمازی لوگ عرب کے جزیرہ میں پوجیں (جیسے جاہلیت کے زمانے میں پوجتے تھے)۔ لیکن شیطان ان کو بھڑکا دے گا (آپس میں لڑا دے گا)۔“

صحیح مسلم حدیث ۷۱۰۳ کا خلاصہ

اس حدیث میں حضرت جابر رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے فرمایا کہ شیطان اس بات سے مایوس ہو چکا ہے کہ جزیرۂ عرب کے نمازی لوگ اسے دوبارہ پوجیں گے۔ لیکن وہ مکمل طور پر خاموش نہیں ہوا بلکہ اب وہ لوگوں کے درمیان لڑائی، فساد اور جھگڑے پیدا کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ شیطان کا بنیادی مقصد صرف عبادت سے ہٹانا نہیں بلکہ مسلمانوں کے دلوں میں نفرت اور اختلاف پیدا کرنا ہے۔ اس لیے ہمیں آپس میں اتحاد اور صبر کو مضبوط رکھنا چاہیے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • شیطان کا بڑا ہدف مسلمانوں میں اختلاف ڈالنا ہے
  • عبادت کے باوجود بھی فتنوں سے بچنا ضروری ہے
  • اتحاد اور صبر شیطانی وسوسوں کا علاج ہے

اس سے متعلق احادیث

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں