صحیح مسلم حدیث ۷۱۰۵ - ابلیس کا تخت اور فتنہ
ابلیس کی حکمت عملی اور انسانی آزمائش
صحیح مسلم : ۷۱۰۵
صحیح مسلمحدیث نمبر ۷۱۰۵
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ إِسْحَاقُ أَخْبَرَنَا ، وقَالَ عُثْمَانُ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " إِنَّ عَرْشَ إِبْلِيسَ عَلَى الْبَحْرِ ، فَيَبْعَثُ سَرَايَاهُ فَيَفْتِنُونَ النَّاسَ فَأَعْظَمُهُمْ عِنْدَهُ أَعْظَمُهُمْ فِتْنَةً " .
جابر روایت:
میں نے سنا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے: ”ابلیس کا تخت سمندر پر ہے وہ اپنے لشکروں کو بھیجتا ہے (لوگوں کو بہکانے کے لیے) تو بڑا شخص اس کے پاس وہ ہے جو بڑا فتنہ کرے۔“ (یعنی لوگوں کو بہت بھڑکائے)۔
صحیح مسلم حدیث ۷۱۰۵ کا خلاصہ
اس حدیث میں بتایا گیا ہے کہ ابلیس اپنا تخت پانی پر رکھتا ہے اور وہاں سے اپنے لشکروں کو دنیا میں بھیجتا ہے تاکہ لوگوں کو گمراہ کریں۔ جو شیطان سب سے زیادہ فتنہ پھیلائے وہ اس کے نزدیک زیادہ مقام پاتا ہے۔ یہ حدیث ہمیں سمجھاتی ہے کہ شیطان مختلف طریقوں سے انسانوں کو گمراہ کرنے کی کوشش کرتا ہے، لیکن اصل کامیابی اس شخص کی ہے جو اپنے ایمان پر قائم رہے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم فتنہ انگیزی سے دور رہیں اور اپنے اعمال کو درست رکھیں۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- شیطان مسلسل انسان کو بہکانے کی کوشش کرتا ہے
- فساد پھیلانا شیطانی کامیابی سمجھی جاتی ہے
- ایمان پر قائم رہنا اصل حفاظت ہے
