حدیث ۷۱۰۶
صحیح مسلم : ۷۱۰۶
صحیح مسلمحدیث نمبر ۷۱۰۶
حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، وَاللَّفْظُ لِأَبِي كُرَيْبٍ ، قَالَا : أَخْبَرَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ إِبْلِيسَ يَضَعُ عَرْشَهُ عَلَى الْمَاءِ ، ثُمَّ يَبْعَثُ سَرَايَاهُ فَأَدْنَاهُمْ مِنْهُ مَنْزِلَةً أَعْظَمُهُمْ فِتْنَةً ، يَجِيءُ أَحَدُهُمْ ، فَيَقُولُ : فَعَلْتُ كَذَا وَكَذَا ، فَيَقُولُ : مَا صَنَعْتَ شَيْئًا ، قَالَ : ثُمَّ يَجِيءُ أَحَدُهُمْ ، فَيَقُولُ : مَا تَرَكْتُهُ حَتَّى فَرَّقْتُ بَيْنَهُ وَبَيْنَ امْرَأَتِهِ ، قَالَ : فَيُدْنِيهِ مِنْهُ ، وَيَقُولُ : نِعْمَ أَنْتَ " ، قَالَ الْأَعْمَشُ : أُرَاهُ قَالَ فَيَلْتَزِمُهُ .
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ابلیس اپنا تخت پانی پر رکھتا ہے پھر اپنے لشکروں کو عالم میں فساد کرنے بھیجتا ہے۔ سو اس سے مرتبہ میں زیادہ قریب وہ ہوتا ہے جو بڑا فساد ڈالے۔ کوئی شیطان ان میں سے آ کر کہتا ہے کہ میں نے فلاں فلاں کام کیا (یعنی فلاں سے چوری کرائی، فلاں کو شراب پلوائی) تو شیطان کہتا ہے: تو نے کچھ بھی نہیں کیا۔ پھر کوئی آ کر کہتا ہے کہ میں نے فلاں کو نہ چھوڑا یہاں تک کہ جدائی کرا دی اس میں اور اس کی جورو (بیوی) میں تو اس کو اپنے پاس کر لیتا ہے کہ ہاں تو نے بڑا کام کیا ہے۔“ اعمش نے کہا: اس کو چمٹا لیتا ہے۔
