صحیح مسلم حدیث ۷۱۰۹ - شیطان اور فرشتہ کا ساتھی
انسان کے ساتھ خیر اور شر کی قوتیں
صحیح مسلم : ۷۱۰۹
صحیح مسلمحدیث نمبر ۷۱۰۹
حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُثَنَّى ، وَابْنُ بَشَّارٍ قَالَا : حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ يَعْنِيَانِ ابْنَ مَهْدِيٍّ ، عَنْ سُفْيَانَ . ح وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ عَنْ عَمَّارِ بْنِ رُزَيْقٍ كِلَاهُمَا ، عَنْ مَنْصُورٍ ، بِإِسْنَادِ جَرِيرٍ مِثْلَ حَدِيثِهِ ، غَيْرَ أَنَّ فِي حَدِيثِ سُفْيَانَ ، وَقَدْ وُكِّلَ بِهِ قَرِينُهُ مِنَ الْجِنِّ وَقَرِينُهُ مِنَ الْمَلَائِكَةِ .
ترجمہ وہی ہے جو گزرا۔ اس میں یہ ہے کہ ”ہر ایک آدمی کے ساتھ اس کا ساتھی شیطان اور ساتھی فرشتہ مقرر کیا گیا ہے۔“
صحیح مسلم حدیث ۷۱۰۹ کا خلاصہ
اس روایت میں بتایا گیا ہے کہ ہر انسان کے ساتھ جنات میں سے ایک ساتھی اور فرشتوں میں سے بھی ایک ساتھی مقرر ہوتا ہے۔ ایک طرف شیطانی وسوسہ ہوتا ہے اور دوسری طرف نیکی کی طرف بلانے والا فرشتہ ہوتا ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ انسان ہمیشہ ایک امتحان میں ہوتا ہے کہ وہ کس طرف کو اختیار کرتا ہے۔ نبی صلى الله عليه وسلم کے بارے میں بیان ہے کہ اللہ نے آپ کو خاص مدد دی جس سے آپ نیکی پر قائم رہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- انسان ہمیشہ خیر و شر کے درمیان ہوتا ہے
- فرشتہ نیکی کی طرف بلاتا ہے
- شیطان برائی کی طرف مائل کرتا ہے
